ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب، اہم گرفتاریاں

60 جعلی قومی شناختی کارڈز، 12 جعلی پاسپورٹس، دستی رجسٹرز، جعلی گزٹڈ آفیسر کی مہر، جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس برآمد

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) نے ایک بڑے اور منظم کرمنل نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک غیر ملکی شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی دستاویزات اور پاسپورٹس فراہم کر کے انہیں بیرونِ ملک، خصوصاً سعودی عرب، غیر قانونی طور پر بھجوانے میں ملوث تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق اس منظم نیٹ ورک میں مختلف سطحوں پر متعدد سہولت کار شامل تھے، جو جعلی دستاویزات کی تیاری سے لے کر ویزا پروسیسنگ اور بیرونِ ملک روانگی تک مکمل چین چلا رہے تھے۔ کیس میں ایف آئی آر نمبر 333/2025 کے تحت ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو نیٹ ورک کے تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہے۔

اب تک تین اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید کارروائی کے دوران انسانی اسمگلر مدیر خان ولد شہزاد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جو اے ایچ ٹی سی اسلام آباد کے ایک مقدمے میں اشتہاری بھی تھا۔

چھاپوں کے دوران 60 جعلی قومی شناختی کارڈز، 12 جعلی پاسپورٹس، دستی رجسٹرز، جعلی گزٹڈ آفیسر کی مہر، جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس اور دیگر اہم مواد برآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ افغان شہریوں کو جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک بھجوانے کے حوالے سے 3 کروڑ 29 لاکھ روپے مالیت کا معاہدہ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق یہ تمام دستاویزات سعودی عرب کے ورک ویزوں کے حصول کے لیے جعلی اور ٹیمپرڈ پاکستانی پاسپورٹس کے ذریعے استعمال کی جا رہی تھیں۔ ڈیٹا کے تجزیے سے مزید سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کے ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس میں مالیاتی لین دین اور بین الاقوامی روابط کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے، جبکہ ممکنہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔

Load Next Story