کراچی میں مبینہ طور پر ایک اور شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کا واقعہ، درخواست دائر
فوٹو: فائل
شہر قائد میں مبینہ طور پر ایک اور شہری کی شارٹ ٹرم کڈننپنگ کا واقعہ سامنے آگیا جہاں متاثرہ شہری نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) ایس ایچ او اور پارٹی انچارج سمیت 15 اہلکاروں کے خلاف ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کو تحریری درخواست جمع کرا دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ اور ماڑی پور کی محمدی کالونی کے رہائشی متاثرہ شہری شہزاد خان کی جانب سے دی جانے والی تحریری درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے 28 اپریل کی رات ساڑھے گیارہ بجے دو پولیس موبائلوں میں ایس ایچ او ایس آئی یو اور اور پارٹی سمیت 15 اہلکار اس وقت میرے پاس آئے جب وہ ماڑی پور روڈ لیاری اسٹیشن کے قریب اپنی گاڑی کے انتظار میں موجود تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ افراد نے بغیر کسی وجہ کے تلاشی لی اور اس دوران میری جیب میں موجود 5 لاکھ 20 ہزار روپے نکال لیے اور واپس نہ دینے پر ان افراد سے میری تلخ کلامی ہوئی جس پر انہوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔
شہری نے کہا کہ بعدازاں مجھے زبردستی پولیس موبائل میں ڈالا اور اغوا کر کے ایس آئی یو سی آئی اے سینٹر صدر لے گئے اور مجھے دھمکیاں دیں کہ اگر زیادہ اچھل کود کروگے تو تمہیں منشیات اور دہشت گردی کے مقدمات میں بند کر دیں گے جس کے بعد انہوں نے 29 اپریل کو صبح 4 بجے مجھے چھوڑ دیا اور دھمکی دی کہ زیادہ ہوشیاری کی تو پولیس مقابلے میں جان سے مار دیں گے۔
متاثرہ شہری شہزاد خان نے ڈی آئی جی سی آئی اے سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کر کے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اور میری رقم ان سے برآمد کرائی جائے۔
اس حوالے سے ایس ایچ او ایس آئی یو ممتاز مہر سے رابطہ کیا تو انہوں نے شہری کی جانب سے لگائے گئے الزام کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے تاہم شہری نے اعلیٰ حکام کو جو درخواست دی ہے جب وہ بلائیں گے تو انہیں بھی لگائے گئے الزام کے حوالے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔