منشیات برآمدگی کیس میں 4 ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار
(فوٹو: فائل)
سندھ ہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کے مقدمے میں 4 ملزمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے انکو سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔
عدالت نے مقدمے میں سنگین نقائص پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو پولیس اہلکاروں کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق سعید آباد پولیس نے بس اسٹینڈ پر کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کرکے 40 کلو افیون برآمد کی تھی، پولیس نے مقدمے میں بس مالک غلام حیدر کو بھی گرفتار کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے 2023 میں ملزمان کو عمر قید اور پانچ لاکھ فی کس جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ استغاثہ کا بنیادی موقف ہی تضادات کا شکار رہا ہے، مقدمے کا آغاز غلط بیانی سے ہونا کیس کو مشکوک بناتا ہے۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ منشیات بس کے خفیہ خانے سے برآمد ہوئی جبکہ مدعی مقدمہ پولیس افسر فقیر حسین نے عدالت میں اعتراف کیا کہ بس میں کوئی خفیہ خانہ موجود نہیں تھا، ہیڈ کانسٹبل مجید نے بھی تسلیم کیا کہ برآمدگی کے تمام کاغذات میں خفیہ خانے کا ذکر ہے لیکن حقیقت میں کوئی خفیہ خانہ موجود نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مال خانہ انچارج نے بیان دیا کہ پوری برآمدگی ایک ہی بوری میں سیل کرکے جمع کروائی گئی، گواہان کے مطابق ایک کلو منشیات الگ جبکہ 39 کلو الگ تھیلے میں جمع کروائی گئی، کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ میں بھی دو پارسل کا ذکر ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنے ریکارڈ میں بھی واضح نہیں کہ منشیات کب اور کس کے حوالے کی گئی، نامکمل ریکارڈ استغاثہ کے کیس کے لئے نقصان دہ ہے، تفتیشی افسر کے بیان کے مطابق منشیات 24 جولائی کو لیبارٹری بھیجی گئی، رپورٹ کے مطابق منشیات 26 جولائی کو موصول ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے مطابق اگر منشیات کی محفوظ تحویل ثابت نا ہو تو سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی، ٹرائل کورٹ نے اہم نکات کا درست جائزہ نہیں لیا اور نا ہی وکیل دفاع کے اعتراضات کو مناسب اہمیت دی، یا تو یہ مقدمہ جھوٹا بنایا گیا ہے یا پولیس نے تفتیش میں انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی سندھ معاملے کی انکوائری کریں اور معلوم کیا جائے کہ تفتیش پر کسی بیرونی دباؤ کا عمل دخل تھا یا نہیں۔