جنگ بندی کے باوجود غزہ پھر لہو لہان، اسرائیلی حملوں میں پولیس چیف سمیت 3 فلسطینی شہید

2023 سے جاری جنگ میں اب تک 72 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے ایک بار پھر تیز ہوگئے ہیں، تازہ فضائی کارروائیوں میں کم از کم 3 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حملوں میں حماس کے زیر انتظام پولیس فورس کے دو اہلکار بھی نشانہ بنے۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کی کرمنل پولیس فورس کے سربراہ وسام عبدالہادی اور ان کے معاون کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر مغازی پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہری جاں بحق ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جبکہ جنازوں میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔

غزہ کی وزارت داخلہ نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ غزہ میں بدامنی اور افراتفری پیدا کی جا سکے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 850 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 72 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Load Next Story