اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے لیہ کے رہائشی کے ساتھ ہونے والے آن لائن بینک فراڈ کیس میں نجی بینک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے رقوم واپسی کی ہدایت کر دی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سارے ہیکرز بینکوں کے سسٹم کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں۔ اکاؤنٹ بعد میں کھلتا ہے، ہیکرز کے پاس ڈیٹا پہلے پہنچ جاتا ہے۔ بینک کا فرض ہے کہ اپنا سسٹم مضبوط کریں۔
جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ میرا بھی ایک نجی بینک میں اکاؤنٹ تھا، مجھے بھی فراڈ کی کال آئی تھی۔ مجھے کہا گیا کہ او پی ٹی آیا ہے وہ شیئر کریں ورنہ اکاؤنٹ بلاک ہوجائے گا۔ 3، 4 سال سے اکاؤنٹ میں کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی تھی تو کہہ دیا کہ بند کر دیں۔
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں تو آن لائن اکاؤنٹ استعمال ہی نہیں کرتا۔ لوگ بے چارے کدھر جائیں؟۔ الاؤنس سے پیسے کیسے نکل گئے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ بینکنگ محتسب، صدر مملکت اور ہائیکورٹ پہلے ہی بینک کے خلاف فیصلہ دے چکے ہیں۔
بینک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شہری نے خود اپنی ایپ سے ٹرانزیکشن کی تھی۔ شہری کا مؤقف ہے کہ ان کا نمبر چوری ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ لیہ کے رہائشی کے اکاؤنٹ سے 2022 میں 15 لاکھ 34 ہزار روپے نکال لیے گئے تھے۔ بینکنگ محتسب، صدر مملکت اور ہائیکورٹ نے اس معاملے پر پہلے ہی بینک کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں پہنچا تھا۔