امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات بے نقاب، مذاکرات کیلئے سخت شرائط سامنے آگئیں
ایران کی خبر ایجنسی نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات اور دونوں ممالک کے مطالبات کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مذاکرات کیلئے کئی سخت شرائط پیش کی ہیں، جن میں ایران کو کسی قسم کا ہرجانہ یا جنگی معاوضہ نہ دینے کی شرط بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرے۔ اس کے علاوہ امریکا نے تجویز دی ہے کہ ایران کو صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے کی اجازت دی جائے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کیے جائیں، جبکہ جنگ بندی کو بھی مستقبل کے مذاکرات سے مشروط رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی بنیادی شرط ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایرانی مؤقف میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جسے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات بھی انہی بات چیت پر منحصر ہیں۔