پنکی زہر بیچتی تھی، منشیات فروشوں کو گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے، شرجیل میمن
کراچی میں منشیات کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا ہے کہ منشیات ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں اور اس سے نوجوان نسل اور پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پنکی” جیسے منشیات فروشوں کو گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ زہر فروخت کر رہے ہیں، جس سے کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی اور مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔
شرجیل میمن نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اگر کسی نوجوان میں نشے کی علامات ہوں تو فوری علاج کرایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں رینڈم ڈرگ ٹیسٹ کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جسے اسمبلی میں تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی۔
منشیات کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے بارے میں شرجیل میمن نے کہا کہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا کیس ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، اور نشے کے عادی افراد معاشرے کے لیے زومبی کی مانند چیلنج بن جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو بچانے کے لیے تمام ڈرگ ڈیلرز کو کیفر کردار تک پہنچانا اور سخت سزائیں دینا ضروری ہیں۔
غیر متعلقہ سوال پر شرجیل میمن نے گھوٹکی کندھ کوٹ پل کے حوالے سے بتایا کہ تعمیراتی کام کے دوران ایک لفٹ سلپ ہوئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نقصان صرف کنٹریکٹر کا ہوا ہے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں سے پوچھیں کہ وہ پیسہ کہاں خرچ کر رہے ہیں اور اگر کسی گھر کا فرد نشے میں مبتلا ہے تو اس کا علاج کرائیں۔ نجی ادارے علاج اور بحالی کے لیے چالیس لاکھ روپے چارج کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات کے خلاف موجود قوانین اور ہر محکمے کا اپنا کردار ہے، اور حکومتیں پورے ملک میں اس مسئلے سے نمٹ رہی ہیں۔