اداکارہ مومنہ اقبال کو دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا، مریم نواز سے مدد کی اپیل کردی

اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک سیاسی شخصیت کی جانب سے مسلسل آن لائن ہراسانی، ذہنی اذیت اور دھمکیوں کا شکار ہیں

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ مومنہ اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے مبینہ آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایک سیاسی شخصیت سے وابستہ فرد کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلخانہ کو شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا سامنا ہے۔

مومنہ اقبال نے 2018 میں ڈرامہ ’پارلر والی لڑکی‘ سے اداکاری کا آغاز کیا تھا، اپنی بہترین اداکاری اور دلکش اسکرین پریزنس کے باعث کم وقت میں شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ وہ ’خدا اور محبت 3‘، ’عہدِ وفا‘، ’سمجھوتہ‘، ’احسان فراموش‘ اور ’دو کنارے‘ جیسے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ خاص طور پر ’دو کنارے‘ میں ان کے منفی کردار ’درشہوار‘ کو ناظرین نے بے حد سراہا تھا۔

اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ایک ایم پی اے کی جانب سے مسلسل آن لائن ہراسانی، ذہنی اذیت اور دھمکیوں کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں، لیکن سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے معاملے پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔

مومنہ اقبال نے مزید دعویٰ کیا کہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی شکایات دبانے کی کوشش کی گئی، جبکہ بعض بااثر حلقوں کی جانب سے بھی معاملہ خاموش کرنے کا دباؤ ڈالا گیا۔ اداکارہ کے مطابق قانونی کارروائی کی کوشش کے بعد ان کے خاندان کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اداکارہ نے خبردار کیا کہ اگر معاملے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو وہ پریس کانفرنس کرکے تمام ثبوت عوام کے سامنے پیش کریں گی۔

مومنہ اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدار اور قانونی کارروائی یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال یا انصاف میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے گا۔

اداکارہ کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ کئی صارفین نے حکومتی اداروں اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہراسانی اور دھمکیوں سے تحفظ دینا ریاست کی ذمے داری ہے۔

Load Next Story