کے پی حکومت اور دہشت گردی

آجکل کے پی میں دہشت گردی کی لہر دوبارہ نظرآرہی ہے۔ اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ لیکن دہشت گردی کی نئی لہر کافی خطرناک ہے۔

msuherwardy@gmail.com

آجکل کے پی میں دہشت گردی کی لہر دوبارہ نظرآرہی ہے۔ اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ لیکن دہشت گردی کی نئی لہر کافی خطرناک ہے۔ پہلے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا،اب پولیس اور سول اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بنوں میں تیس پولیس کے جوان شہید ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کے پی حکومت ابھی تک خاموش ہے؟ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پولیس ڈیپارٹمنٹ ان شہید نوجوانوں کے نہ تو جنازوں میں گئے ہیں اور نہ ہی تعزیت کے لیے ان کے گھروں میں گئے ہیں۔

اس لیے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت صرف دہشتگردی کا نہیں شکار بلکہ دہشتگردی کے خلاف بیانیے کے فقدان اور گورننس کے شدید بحران کا بھی شکار ہے۔ صوبے میں پولیس، عوام، قبائلی مشران اور سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، مگر صوبائی قیادت کی ترجیحات دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت واقعی دہشتگردی کے خلاف قومی صف بندی کا حصہ ہے یا وہ دہشت گردوں کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے۔

 وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی توجہ نہیں ہے، انھیں گڈگورننس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس حوالے سے ان پر صوبائی وزراء، ارکان صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی قیادت کا کوئی دباؤ ہے۔ شہداء کے خاندانوں سے تعزیت کرنا ، جنازوں میں شرکت کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ صوبے کا ریونیو کیسے بڑھانا ہے ، صوبائی سرکاری اداروں کی کارکردگی کیسے بہتر کرنی ہے ، صوبے کی زراعت کو کیسے ترقی دینی ہے اور دیگر ترقیاتی کاموں کو کیسے انجام تک پہنچانا ہے ، اس پر بھی ان کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ ان کی ساری توجہ اڈیالہ، سیاسی احتجاج ،جماعتی وفاداریوں اور بانی کی بہنوں کے سامنے سرجھکا کرکھڑنے رہنے پر ہے۔

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہوگا۔ یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی جا رہی ہے۔ ایک محاذ پر فوج، پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ دوسرا محاذ بیانیے اور بہتر گورننس کا ہے، جہاں حکومت، سیاسی قیادت، علما، میڈیا اور عوامی نمائندوں کو دہشتگردی کے خلاف واضح لکیر کھینچنی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں یہی لکیر دھندلی کی جا رہی ہے۔

جب دہشتگرد حملہ کرتے ہیں تو ریاستی ادارے میدان میں نظر آتے ہیں، مگر جب بیانیہ بنانا ہوتا ہے تو صوبائی حکومت کا لہجہ کمزور، مبہم اور سیاسی مصلحتوں میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ وہ دہشتگردوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں بیانیہ بناتے نظر آتے ہیں۔اس صوبے کی سیاسی قیادت جن میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لیڈر شامل ہیں، سب کا بیانیہ مبہم، اگرمگر اور چونکہ چنانچہ کی گردان پر مبنی ہے۔

یہی وہ خطرناک مقام ہے جہاں دہشت گردی، جرائم اور سیاست کا گٹھ جوڑ جنم لیتا ہے۔صوبائی حکومت کا یہ کمزور کردار قومی نقصان کا باعث ہے۔ بُری گورننس بھی دہشت گردی کے لیے ایک ساز گار ماحول مہیا کرتی ہے، جب بنیادی سہولیات سے محروم شورش زدہ علاقوں میں صوبائی حکومت بالکل بھی نظر نہیں آتی تو دہشتگردوں کے بیانیہ کو بھی ترویج ملتی ہے کہ ’’یہ حکومت یا سسٹم مظلوم کو بچانے یا اس کی داد رسی کے لیے نہیں آئے گا۔ کے پی کی حکومت کی دہشت گردی پر عدم توجہ اور عوامی مسائل حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کا کے پی کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

جب دہشتگردی کو دہشت گردی کہنے کے بجائے ہر بات کو سیاسی انتقام، مرکز اور صوبے کی لڑائی یا کسی بیرونی سازش کے پردے میں چھپایا جائے تو اصل مجرم یعنی دہشت گرد کو فائدہ پہنچتا ہے۔دہشت گرد صرف گولی سے نہیں جیتتا، وہ اس وقت بھی جیتتا ہے جب ریاستی بیانیہ کمزور ہو جائے، جب عوام کو کنفیوژ کیا جائے، جب قاتل اور مقتول کے درمیان فرق مٹانے کی کوشش کی جائے، اور جب شہداء کے خون پر خاموشی اختیار کر کے سیاسی قیدیوں کے لیے شور مچایا جائے۔جب شہیدوں کے جنازوں میں جانے سے اجتناب کیا جائے۔۔ جب دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کیا جائے، تب دہشت گردوں کی مدد ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جانے کا وقت مل جاتا ہے، سیاسی مشاورت کے لیے قافلے نکل آتے ہیں، کابینہ بڑھانے اور سیاسی صف بندیاں کرنے کے لیے توانائی موجود ہوتی ہے، مگر دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے جنازوں، ان کے گھروں اور ان کے دکھ میں وہی سیاسی شدت کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا صوبے کے عوام کا درد کسی سیاسی ایجنڈے سے کم اہم ہے؟ کیا شہداء کے خاندان اس قابل نہیں کہ وزیراعلیٰ ان کے دروازے پر جا کر ریاست کی موجودگی کا احساس دلائے؟ یہی خاموشی عوام کے دل میں شک پیدا کرتی ہے اور یہی شک دہشت گردوں کے بیانیے کو جگہ دیتا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردی کے معاملے پر خاموشی دراصل دہشتگرد کے حق میں جاتی ہے۔ اس جنگ میں درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔ یا ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا یا پھر تاریخ ایسے کرداروں کو معاف نہیں کرے گی جو مشکل وقت میں قوم کے بجائے جماعتی مفاد کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ فوج اور پولیس میدان میں قربانیاں دے رہی ہیں، مگر اگر صوبائی حکومت بیانیے کے محاذ پر کمزور، خاموش یا مشکوک دکھائی دے تو یہ قربانیاں مزید بھاری ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ دہشتگردی کسی بھی نام، جھنڈے، نعرے یا سیاسی پردے میں قابل قبول نہیں۔ جو پاکستانی شہریوں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، اساتذہ، مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، تحفظ چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، کاروبار چاہتے ہیں، تعلیم چاہتے ہیں۔ انھیں ایسے حکمران نہیں چاہئیں جو دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن بیانیہ دینے کے بجائے سیاسی مظلومیت کی داستانوں میں الجھے رہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشتگردوں کے خلاف کھل کر کھڑی ہو، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو، پولیس اور عوام کے حوصلے بلند کرے، اور ہر اس بیانیے کو مسترد کرے جو دہشت گردی کو نرم الفاظ میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کہ بندوق سرحد پر چلے اور کنفیوژن صوبے کے اندر پھیلے۔ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ریاست، فوج، پولیس اور عوام کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ جو اس صف میں نہیں کھڑا، وہ کم از کم عوام کے سامنے اپنی ترجیحات واضح کرے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کے پی کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ لیکن وہاں کی حکومت اس محاذ پر کھلے عام ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہاں کوئی ابہام نہیں۔ وہاں حکومت عوام مسائل کے حل اور دہشت گردوں کی مذمت میں کوئی کنفیوژ نہیں۔ اس فرق کو سمجھیں۔ وہاں پالیسی میں یکسوئی نظر آرہی ہے۔ جب کہ کے پی میں ایسا نظر نہیں آرہا۔ نیشنل ایکشن پلان کے کئی نقاط پر صوبائی حکومت نے عمل کرنا ہے لیکن کے پی کی حکومت کی اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ کے پی حکومت نے سی ٹی ڈی کا محکمہ بھی مضبوط نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے کے پی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان رہتا ہے۔

Load Next Story