کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا اہم اجلاس، پبلک ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا ایک اہم اجلاس اتحاد کے صدر حاجی تواب خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا ایک اہم اجلاس اتحاد کے صدر حاجی تواب خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کراچی بھر سے پبلک ٹرانسپورٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور مختلف معاملات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

شرکاء نے خاص طور پر محکمہ ایکسائز کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹرز کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور اضافی شرائط پر سخت احتجاج کیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ ایکسائز نے گاڑیوں کے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے یہ شرط عائد کردی ہے کہ ہر گاڑی مالک کو ٹیکس جمع کرانے سے قبل لازمی طور پر تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسی پیش کرنا ہوگی، جس کی مد میں تقریباً 12 ہزار روپے اضافی ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

ٹرانسپورٹرز نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسی کے خدوخال، فوائد اور متعلقہ انشورنس کمپنی کے بارے میں ٹرانسپورٹ برادری کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ وہ پاکستان اور سندھ کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے تمام سرکاری ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہیں، تاہم بغیر وضاحت اور مشاورت کے تھرڈ پارٹی انشورنس کی یہ شرط قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں اور وہ اس پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔

اجلاس میں ڈبل بائیو میٹرک اور ڈبل میٹرک سسٹم کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس نظام کے نفاذ کے لیے 30 جون 2026 تک مہلت دی گئی تھی، مگر محکمہ ایکسائز اس مہلت کو تسلیم نہیں کررہا اور ٹرانسپورٹرز سے اضافی رقم طلب کی جارہی ہے۔

شرکاء نے محکمہ ایکسائز کی مبینہ زیادتیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو بلاجواز مالی بوجھ تلے دبایا جارہا ہے۔

اجلاس میں ای چالان اور کیمرا چالان سسٹم کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ای چالان سسٹم ایک ناکام پروگرام ثابت ہوا ہے کیونکہ اس میں ٹریکرز اور کیمروں کی متعدد غلطیاں سامنے آچکی ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ کیمروں کو بسوں، منی بسوں اور کوچز کی معمولی نقل و حرکت تو نظر آتی ہے، لیکن دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر بھر میں غیر قانونی طور پر چلنے والے چھ اور نو سیٹر رکشے اور تین سیٹر رکشے نظر نہیں آتے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ان غیر قانونی رکشوں کی وجہ سے کراچی کا ٹریفک نظام شدید متاثر ہورہا ہے اور شہر کے اہم چوراہے دوبارہ رکشہ اڈوں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ شرکاء کے مطابق یہ غیر قانونی رکشے کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

ٹرانسپورٹ اتحاد نے مطالبہ کیا کہ بے جا ای چالانز اور پیچیدہ قوانین کو فوری طور پر ختم کرکے نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔

آخر میں ٹرانسپورٹ برادری نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو ٹرانسپورٹ برادری اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور یہ احتجاج محکمہ ایکسائز کے دفاتر کے سامنے کیا جائے گا۔

Load Next Story