اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک جواب، صائمہ سلیم نے بھارتی الزامات مسترد کر دیے

بھارت دنیا کے سامنے مظلومیت کا نقاب اوڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم عالمی برادری اصل چہرے کو بخوبی پہچانتی ہے، کونسلر

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شہریوں کے تحفظ پر سالانہ مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کے ریمارکس کا سخت جواب دیتے ہوئے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا۔

پاکستان کی کونسلر صائمہ سلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت دنیا کے سامنے مظلومیت کا نقاب اوڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم عالمی برادری اس کے اصل چہرے کو بخوبی پہچانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بیرونِ ملک دہشت گردی کی سرپرستی، اقوام پر قبضے، اقلیتوں کے خلاف مظالم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور خطے میں جارحیت جیسے اقدامات میں ملوث ہے، اس کے باوجود وہ شہریوں کے تحفظ پر دوسروں کو لیکچر دینے کی کوشش کرتا ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ایک حقیقت ہے، جس کی بھاری انسانی قیمت پاکستان نے ادا کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو افغان سرزمین سے مالی معاونت اور سہولت کاری فراہم کی گئی، جنہوں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں کو نشانہ بنایا۔

افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں کے خلاف نہایت درست اور پیشہ ورانہ کارروائیاں کیں، جن کا ہدف صرف دہشت گرد عناصر تھے، نہ کہ افغان عوام یا شہری تنصیبات۔

کشمیر کے حوالے سے صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو نہ تو چھپا سکتا ہے اور نہ اس سے انکار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے قتل، گرفتاریوں، جبری بے دخلی، گھروں کی مسماری اور بنیادی آزادیوں کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور مسیحیوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہندوتوا انتہا پسندی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے۔

پاکستانی کونسلر نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بھی بین الاقوامی قانون سے بھارت کی بے اعتنائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ریاست کروڑوں لوگوں کے پانی اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیاں دے، وہ شہریوں کے تحفظ پر بات کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔

اپنے بیان کے اختتام پر صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان امن، مکالمے، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور خودمختار مساوات کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔

Load Next Story