پھیپھڑوں میں خون جمنا کتنا خطرناک؟ پلمونری ایمبولزم خاموش مگر جان لیوا بیماری قرار

پلمونری ایمبولزم ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پلمونری ایمبولزم ایک انتہائی خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بیماری ثابت ہوسکتی ہے، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پھیپھڑوں تک خون پہنچانے والی شریانوں میں خون کا لوتھڑا پھنس جائے اور خون کی روانی متاثر ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس مرض کی بروقت تشخیص اور فوری علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں حتیٰ کہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق انسانی جسم میں موجود پلمونری شریانیں پھیپھڑوں تک خون پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔ جب کسی شریان میں خون جم کر رکاوٹ پیدا کر دے تو اس کیفیت کو پلمونری ایمبولزم کہا جاتا ہے۔ اکثر یہ لوتھڑا ٹانگوں کی گہری رگوں میں بنتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں ڈیپ وین تھرومبوسز یا ڈی وی ٹی کہا جاتا ہے، اور پھر خون کے بہاؤ کے ذریعے پھیپھڑوں تک جا پہنچتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت اچانک سانس میں دشواری یا سانس پھولنا ہے، جو معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں شدید درد بھی ایک اہم علامت مانی جاتی ہے، جو گہرا سانس لینے، کھانسنے یا جھکنے سے مزید بڑھ سکتا ہے اور بعض اوقات مریض کو دل کے دورے جیسی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر تیز ہونا، چکر آنا، بے چینی، زیادہ پسینہ آنا، بخار اور کھانسی کے ساتھ خون آنا بھی اس بیماری کی خطرناک علامات میں شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں علامات کی شدت مختلف ہوسکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ پہلے سے دل یا پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہوں۔

طبی ماہرین کے مطابق پلمونری ایمبولزم ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ بعض پیچیدہ کیسز میں خون کے لوتھڑے کو ختم کرنے یا خون کی روانی بحال کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، خاص طور پر جب ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں۔

ماہرین نے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے متحرک طرزِ زندگی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ واک اور ورزش خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور لوتھڑے بننے کے امکانات کم کرتی ہے۔ اسی طرح کمپریشن جرابوں کا استعمال بھی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ٹانگوں میں خون کی گردش بہتر بنا کر ڈی وی ٹی کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا، زیادہ وزن اور تمباکو نوشی خون جمنے کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متوازن غذا، مناسب ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ اس خاموش مگر خطرناک بیماری سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Load Next Story