جاپان اور جوراسک پارک کے انڈے
آپ میں سے جس جس نے فلم جوراسک پارک دیکھی ہے اسے اچھے سے یاد ہوگا کہ کس طرح خبطی قسم کے ماہرینِ حیاتیات نے لاکھوں برس پہلے معدوم ہونے والے ڈائینو سارز کے انڈوں کو جینیاتی چمتکار کے ذریعے زندہ کر دیا۔اس کے بعد ان انڈوں سے نکلنے والے ڈائینوسارز پیچھے پیچھے اور فطرت سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے انسان آگے آگے تھے۔
اس پس منظر میں امریکا بالخصوص اپنی بے یقینی پھیلانے والی پالیسیوں کے سبب جاپان اور جرمنی کے ان جنات کو نیند سے جگا رہا ہے جنھیں دوسری عالمی جنگ کے بعد بہت مشکل سے عدم تشدد کے انجکشن دے کر یہ کہتے ہوئے سلایا گیا تھا کہ آپ کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے لہذا آپ جب بھی اپنی تھکن اتار کے جاگیں تو خود کو محض معاشی ترقی و صنعتی مسابقت تک ہی محدود رکھیں۔
چھ اور نو اگست انیس سو پینتالیس کو علی الترتیب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایک ایک ایٹم بم گرا اور دونوں شہروں میں آناً فاناً دو لاکھ سے زائد انسان مٹ گئے۔ پانچ روز بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکا نے ملک کا عبوری انتظام سنبھال لیا۔
دو برس بعد ( انیس سو سینتالیس ) جاپان میں امریکی مشاورت سے نیا آئین نافذ ہوا۔آئین کی شق نمبر نو میں لکھا گیا کہ ’’ جاپان آیندہ کبھی بھی جنگ کی نئیت سے مسلح افواج کی تشکیل اور جنگ کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے کے اختیار سے دستبردار تصور کیا جائے گا ‘‘۔
اگرچہ نوے فیصد جاپانی عوام آج تک دوسری عالمی جنگ میں ملک کی تباہی کا سوچ کر آئین کے آرٹیکل نو کو عدم تشدد سے ہمیشہ کے لیے تائب ہونے کی قومی علامت تسلیم کرتے ہیں۔مگر ایک ایسی دنیا جس میں جاپان کو ایٹمی چھتری فراہم کرنے کا امریکی وعدہ لڑ کھڑا رہا ہو اور ٹرمپ نے ناٹو ، جنوبی کوریا اور جاپان کو صاف صاف جتا دیا ہو کہ وہ دن گئے جب امریکا ان سب اتحادیوں کے عسکری تحفظ کا بوجھ اٹھا رہا تھا۔ اپنا بوجھ اب خود اٹھاؤ۔جاپان اور دیگر اب اپنا دفاعی وزن خود اٹھانے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔
جاپان کے تاریخی حریف چین کے بارے میں اندازہ ہے کہ دو ہزار تیس تک اس کے پاس ایک ہزار سے زائد جوہری ہتھیار ہوں گے۔دوسرا ہمسایہ شمالی کوریا نہ صرف جوہری اسلحہ لے جانے والے دور مار میزائلوں سے مسلح ہے بلکہ ایک اندازے کے مطابق اس کے پاس لگ بھگ پچاس جوہری ہتھیار بھی ہیں۔جاپان کے تیسرے ہمسائے روس نے دو برس پہلے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی شرائط میں ترمیم کرکے انھیں مزید آسان بنا لیا ہے۔ایسی دنیا میں جاپان کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل نو پر ہمیشہ کاربند رہ سکے۔
چنانچہ گذشتہ برس اکتوبر میں برسرِ اقتدار آنے والی وزیرِ اعظم سنائی تاکائچی نے گذشتہ ماہ عدم تشدد کی اسی برس سے جاری پالیسی تیاگتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جاپان نہ صرف آنے والے برسوں میں دفاعی بجٹ بڑھائے گا بلکہ بیرونِ ملک بھی دفاعی ذمے داریاں نبھائے گا اور اسلحہ بھی فروخت کرے گا۔نئی پالیسی کے خلاف جاپان میں سول سوسائٹی نے کئی احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں مگر تازہ حقائق کا سامنا کرنے والی جاپانی اسٹیبلشمنٹ اس بار دباؤ میں آنے کے موڈ میں نہیں لگ رہی۔
سب سے پہلے وزیرِ اعظم شینزو آبے نے یہ بات چھیڑی کہ جاپانی دفاعی افواج کو موثر کردار دینے کے لیے آرٹیکل نو میں ترمیم ہونی چاہیے۔چنانچہ پارلیمنٹ نے دو ہزار پندرہ میں قانون منظور کیا کہ جاپان نہ صرف اپنی سرزمین کے مسلح دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے بلکہ بیرونِ ملک اتحادیوں پر حملے کی صورت میں ان کا ساتھ بھی دے گا۔اس مقصد کے لیے گذشتہ ماہ کی اکیس تاریخ کو ایک قدم اور بڑھایا گیا جب حکومت نے اسلحے کی بین الاقوامی تجارت پر سے پابندی اٹھا لی۔
دو ہزار بائیس میں جاپان نے دفاع کی مد میں پینتیس ارب ڈالر مختص کیے۔آیندہ مالی سال ( دو ہزار ستائیس ) کے لیے ساٹھ ارب ڈالر مختص کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔اگرچہ یہ رقم کل قومی آمدنی کا بظاہر ایک فیصد ہے۔مگر یہ دنیا کی تیسری بڑی صنعتی طاقت کا ایک فیصد ہے۔اس اعتبار سے جاپان اس وقت دفاعی اخراجات کی عالمی فہرست میں نویں درجے پر آ گیا ہے۔
دفاعی پیداوار کی وزارت نے اٹلی اور برطانیہ کے اشتراک سے سکستھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی تیاری کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔ فن لینڈ اور سویڈن سے دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک پر بات ہو رہی ہے۔مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز ملک کا پہلا ہائپر سانک بیلسٹک میزائیل تیار کر رہی ہے۔مسٹوبشی نے آسٹریلوی بحریہ کو گیارہ موگامی کلاس فریگیٹ فروخت کرنے کا بھی سودا کیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی ہتھیاروں کا یہ پہلا بڑا سودا ہے۔
فلپینز ، انڈونیشیا ، ملائشیا اور ویتنام نے بھی جاپانی دفاعی ٹیکنالوجی اور اسلحے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ان سب ممالک کو بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ کی تیزی سے بڑھتی طاقت پر تشویش ہے۔
ڈرونز ، بحری طاقت میں اضافے ، سائبر ٹیکنالوجی ، سگنلز جامنگ اور اے آئی ٹولز کے ذریعے موثر رابطہ کاری کے منصوبے بھی ڈرائنگ بورڈز پر ہیں۔جاپان بہرحال اتنی بڑی صنعتی قوت ضرور ہے جو اگلے ایک عشرے میں عالمی دفاعی صنعت و تجارت پر چھائی ہوئی متعدد امریکی اور یورپی اسلحہ ساز اور ٹیک کمپنیوں کو کوسوں پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ظاہر ہے کہ چین اپنے ہمسائے کی اس نئی انگڑائی کو تلخ ماضی کی روشنی میں تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ بیرونِ ملک اسلحہ فروخت کرنے کے فیصلے پر چین نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ جاپان رفتہ رفتہ دوسری عالمی جنگ کے دور کی جنگجو ذہنیت کی طرف لوٹ رہا ہے۔
تو کیا جاپان جو ایٹم بم کی تباہ کاری سے دنیا کے کسی بھی اور ملک سے زیادہ واقف ہے اور اب تک جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا پرزور وکیل رہا ہے خود کبھی ایٹمی طاقت بنے گا ؟
اگرچہ ڈاکٹر ہنری کسنگر نے دو ہزار تئیس میں پیش گوئی کی تھی کہ جاپان اگلے ایک عشرے میں ایٹمی کلب میں داخل ہو جائے گا۔بین الاقوامی امور کے سرکردہ امریکی اسکالر جان مئیر شائمر بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ جاپان کو اگر یقین ہو گیا کہ اس کا تحفظ کرنے والی امریکی ایٹمی چھتری میں سوراخ ہو چکا ہے اور اگر امریکی چھتری تلے رہنے والے جاپان کے دوسرے ہمسائے جنوبی کوریا کو بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوا اور اس نے شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے ایٹمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایٹمی قوت بننے کی راہ اپنائی تو جاپان بھی منطقی اعتبار سے اسی راستے پر چل پڑے گا۔
سابق جاپانی وزیرِ دفاع تارو کونو کا کہنا ہے کہ اب یہ بحث قابلِ اعتراض نہیں ہونی چاہیے کہ ہم آگے چل کے ایٹمی قوت بنیں یا نہیں۔فی الحال تو صرف پانچ فیصد جاپانی اس راستے پر چلنے کے حق میں ہیں۔مگر حالات کے ہاتھوں پانچ فیصد رائے کو پچانوے فیصد بننے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟ اگلے مضمون میں جرمنی کے جاگنے کی بات کریں گے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)