غزہ: جب ہم نے اسکرین اسکرول کر دی

غزہ میں پچاس ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ صرف بچوں کی تعداد سترہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔


شیخ جابر May 23, 2026

وہ صرف پانچ سال کی تھی۔ نام تھا، ورد۔

جنوری کی ایک یخ بستہ رات، جب غزہ کے تاریک آسمان پر اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز کی مسلسل گرج انسانوں کے اعصاب چیر رہی تھی، وہ خوف سے سمٹی اپنی ماں کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔ باہر دھماکوں کی لرزہ خیز آوازیں تھیں، اندر ایک معصوم دل کی دھڑکن۔ ورد نے اپنی ماں سے پوچھا۔

’’امی… اگر ہم سو جائیں تو کیا بم کی آوازیں ہمیں جگا دیں گی؟‘‘

ماں جانتی تھی کہ غزہ میں اب نیند اور ابدی نیند کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہ گیا ہے، مگر ممتا ہمیشہ آخری سانس تک امید کے چراغ جلائے رکھنے کا نام ہے۔ اس نے بیٹی کو سینے سے لگایا، اس کی پیشانی چومی اور کہا۔’’ میری جان، کچھ نہیں ہوگا، آرام سے سو جاؤ۔‘‘

 چند ہی منٹ بعد پوری عمارت ایک ہولناک دھماکے سے زمین بوس ہو ئی، اور ورد ہمیشہ کی نیند سو گئی۔ صبح جب امدادی کارکن ملبہ ہٹا رہے تھے تو انہیں ورد کی لاش اپنی ماں کے بازوؤں میں ملی۔ ماں آخری لمحے تک اپنی بیٹی کے گرد ایک ڈھال بنی رہی تھی۔ ورد کی چھوٹی سی مٹھی میں اب بھی کپڑے کا وہی خرگوش دبا ہوا تھا جسے وہ ہر رات اپنے ساتھ سلاتی تھی۔دنیا نے یہ منظر دیکھا۔ اقوامِ متحدہ نے بھی دیکھا۔ انسانی حقوق کے عالمی علَم برداروں نے بھی دیکھا۔ مغربی میڈیا کے جگمگاتے اسٹوڈیوز میں بھی یہ تصویر چلی۔ دنیا چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئی، پھر اگلی خبر، اگلے اشتہار اور اگلی تفریح کی طرف بڑھ گئی۔

 یہی غزہ کا اصل المیہ ہے۔ صرف یہ نہیں کہ وہاں لوگ مر رہے ہیں، دکھ یہ ہے کہ دنیا انسانوں کے مرنے کی عادی ہو چکی ہے۔غزہ اب صرف ایک محصور پٹی نہیں رہا، یہ جدید دنیا کے اخلاقی انہدام کا ایک کھنڈر بن چکا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں پوری مہذب دنیا اپنا اصل چہرہ دیکھنے سے گھبراتی ہے۔

 غزہ میں پچاس ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ صرف بچوں کی تعداد سترہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پچیس ہزار سے زیادہ بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ انیس لاکھ انسان،یعنی غزہ کی تقریباً پچاسی فیصد آبادی،بے گھر ہو چکی ہے۔ چھتیس میں سے تیس اسپتال یا تو مکمل تباہ ہو چکے ہیں یا غیر فعال ہیں۔ اسی فیصد سے زائد اسکول اور اقوامِ متحدہ کے سیکڑوں امدادی مراکز بمباری کی زد میں آ چکے ہیں۔ غزہ کی پینسٹھ فیصد سے زیادہ رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور یہ سب کچھ صرف بمباری تک محدود نہیں۔ خوراک، پانی، بجلی اور ادویات کی بندش نے پورے خطے کو قحط کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب بچے صرف میزائلوں سے نہیں مر رہے؛ وہ بھوک، پیاس اور دواؤں کی عدم دستیابی سے بھی مر رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ دنیا کی آنکھوں کے سامنے کیسے ممکن ہوا؟

یہاں اصل مسئلہ صرف اسرائیل نہیں۔ ریاستیں ہمیشہ طاقت اور مفاد کے مطابق عمل کرتی ہیں۔ اصل مقدمہ اس عالمی نظام پر ہے جس نے خود کو انسانیت، انصاف اور عالمی اخلاقیات کا نگہبان بنا کر پیش کیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے اعلان کیا تھا کہ اب انسانیت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ جنیوا کنونشنز بنائے گئے، اقوامِ متحدہ قائم ہوئی، انسانی حقوق کے عالمی منشور لکھے گئے، اور دنیا کو بتایا گیا کہ اب جنگی جرائم کبھی برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ کہا گیا کہ اب قانون طاقتور اور کم زور دونوں پر یکساں لاگو ہوگا۔ ’’نیور اگین‘‘اب صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عالمی عہد ہوگا۔مگر غزہ نے ثابت کر دیا کہ یہ سب محض الفاظ تھے۔یہاں بچوں کی لاشیں بھی جغرافیہ دیکھ کر قیمتی یا بے قیمت بنتی ہیں، اگر یہ ہی تباہی کسی یورپی شہر پر نازل ہوتی، اگر یہ ہی مائیں اور بچے سفید فام ہوتے، تو شاید دنیا کی زبان اور ہوتی۔ عالمی میڈیا کے لہجے بدل جاتے، فوری پابندیاں لگ جاتیں، ہنگامی اجلاس بلائے جاتے، عالمی ضمیر جاگ اٹھتا۔مگر چونکہ یہ غزہ ہے، اس لیے قتل عام کو’’ حق دفاع‘‘کہا گیا، اجتماعی سزا کو’’سیکیورٹی آپریشن‘‘ کا نام دیا گیا اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر بھی دنیا خاموش رہی۔

یہ خاموشی محض سیاسی نہیں، تہذیبی ہے۔مغرب نے صدیوں تک خود کو انسانی حقوق، آزادی، مساوات اور انسانی وقار کا سب سے بڑا علَم بردار بنا کر پیش کیا۔ یہ ہی وہ اخلاقی برتری تھی جس کی بنیاد پر اس نے پوری دنیا کو تہذیب کا درس دیا، لیکن غزہ نے دکھا دیا کہ ان اصولوں کی اصل حیثیت کیا ہے: طاقت کے تابع اخلاقیات۔اگر طاقت آپ کے ساتھ ہے تو آپ کی بمباری’’دفاع‘‘ کہلائے گی اور اگر آپ کم زور ہیں تو آپ کی مزاحمت’’دہشت گردی‘‘بن جائے گی۔

غزہ میں صرف عمارتیں نہیں گریں، جدید تہذیب کے اخلاقی ستون بھی گر گئے۔ اقوامِ متحدہ کی ساکھ ملبے تلے دب گئی۔ بین الاقوامی قانون کی غیر جانب داری دفن ہو گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا اخلاقی وزن ختم ہو گیااور اس بار یہ سب کچھ کسی تاریک عقوبت خانے میں نہیں ہوا۔ یہ اکیسویں صدی کا پہلا’’ لائیو‘‘قتل ِ عام ہے۔ دنیا نے اپنی اسکرینوں پر دیکھا کہ ایک باپ اپنے بچے کے جسم کے ٹکڑے پلاسٹک کے تھیلے میں جمع کر رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر موبائل فون کی روشنی میں زخمی بچوں کا آپریشن کر رہا ہے۔ ایک صحافی اپنے ہی خاندان کی لاشوں کے سامنے کھڑا خبر پڑھ رہا ہے۔

پھر دنیا نے اسکرین اسکرول کر دی۔

یہ جدید انسان کا سب سے خوفناک روپ ہے، معلومات سے بھرپور مگر احساس سے خالی انسان۔ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں مصنوعی ذہانت ترقی کر رہی ہے مگر انسانی ضمیر سکڑ رہا ہے۔ سیٹلائٹ خلا سے زمین کی ہر حرکت دیکھ سکتے ہیں مگر عالمی اخلاقیات اندھی ہو چکی ہیں۔ دنیا نے ٹیکنالوجی حاصل کر لی، مگر حکمت کھو دی۔

 غزہ اب صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں رہا، یہ پوری انسانیت کا امتحان بن چکا ہے۔ پہلے بچوں کی لاشیں ضمیر جھنجھوڑتی تھیں، اب وہ سوشل میڈیا کے بے رحم بہاؤ میں چند لمحوں کے لیے ابھرتی ہیں اور پھر غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف جنگ نہیں، احساس کے قتل کا عمل ہے۔

غزہ کا یہ عبرت کدہ گواہی دے رہا ہے کہ انسانیت کو اب کسی عارضی مصلحت یا جنگ بندی کی نہیں، بلکہ طاقت اور سرمائے کے مہیب ترازو سے آزاد ایک بالکل نئے معنیاتی اور اخلاقی نظام کی ضرورت ہے ، جہاں انصاف جغرافیے کا محتاج نہ ہو اور انسان کی قیمت اس کے رنگ و نسل سے نہیں بلکہ اس کے وجود کی آفاقی حرمت سے طے ہو۔

 اب سوال صرف فلسطین کا نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا جدید دنیا واقعی اخلاقی بنیادوں پر کھڑی ہے یا صرف طاقت کے توازن پر؟ کیا انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں یا محض سیاسی ہتھیار؟ کیا بین الاقوامی قانون انصاف کے لیے ہے یا طاقتوروں کے تحفظ کے لیے؟ یہ سوال اب دنیا بھر کی یونیورسٹیوں، سڑکوں اور عوامی احتجاجوں میں گونج رہے ہیں۔

غزہ کے کھنڈرات میں صرف مکان ہی دفن نہیں ہوئے؛ جدید تہذیب کے دعوے بھی دفن ہو گئے ہیں۔