عید قرباں میں دو روز باقی، کراچی تا لاہور مویشی منڈیوں میں بھاؤ تاؤ کی جنگ جاری
عید الاضحیٰ کی آمد میں صرف دو روز باقی رہنے کے ساتھ ہی مختلف شہروں کی مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیوپاریوں کا رش عروج پر پہنچ گیا۔
ناردرن بائی پاس پر لگنے والی کراچی کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں سستے جانوروں کی تلاش کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ بیوپاریوں اور خریداروں کے درمیان روایتی بحث اور سودے بازی جاری ہے۔
لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں عارضی مویشی منڈیاں لگ چکی ہیں۔ خریدار شام اور رات کے اوقات میں منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ گرمی سے بچ سکیں اور اپنی پسند کے جانور خرید سکیں۔
ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے باعث شہریوں نے بڑی تعداد میں جانور خریدے تاہم منڈیوں میں اب بھی جانور موجود ہیں اور خریداروں کی آمدورفت کے ساتھ بھاؤ تاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد بیوپاری اپنے جانور فروخت کر کے گھروں کو واپس لوٹ گئے، تاہم اب بھی منڈیوں میں بڑی تعداد میں جانور موجود ہیں اور خریدار بھی مسلسل آ رہے ہیں۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بیوپاری اس کوشش میں ہیں کہ وہ جانور واپس لے جانے کے بجائے کم منافع پر ہی فروخت کر دیں، جس کے باعث گزشتہ دنوں کے مقابلے میں ریٹس میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھاؤ تاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ سال 70 سے 80 ہزار روپے میں فروخت ہونے والا بکرا اس سال ایک لاکھ 25 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ بڑے بکرے کی قیمت دو سے اڑھائی لاکھ روپے تک ہے۔ گائے کی قیمت بھی دو سے اڑھائی لاکھ کے بجائے چار سے پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جس پر خریدار پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، پٹرول، ڈیزل اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث اس بار جانور مہنگے ہیں جبکہ خریدار کم ریٹ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔