ایران اور امریکا معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس مفاہمتی یادداشت کی حتمی منظوری نہیں دی

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جسے سرمایہ کاروں نے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 93.7 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی گر کر 88.9 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

اسی طرح مربن آئل کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 93.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر متفق ہو چکے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس مفاہمتی یادداشت کی حتمی منظوری نہیں دی۔

ویب سائٹ کے مطابق اگر اس معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ ایران امریکا کشیدگی کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت تصور کی جائے گی۔ تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت کئی اہم معاملات پر مزید تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول پر آجاتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں مزید استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

Load Next Story