روسی ڈرون رومانیہ کے رہائشی علاقے میں جا گرا، اپارٹمنٹ تباہ، یورپی ممالک میں کھلبلی

یہ پہلا موقع ہے کہ روسی ڈرون نے براہِ راست نیٹو رکن ملک کی شہری عمارت کو نشانہ بنایا

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایک بڑا واقعہ اس وقت پیش آیا جب روسی ڈرون یوکرین کی جانب حملے کے دوران رومانیہ کی حدود میں داخل ہو کر ایک رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ روسی ڈرون نے براہِ راست نیٹو رکن ملک کی شہری عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق روسی ڈرون رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتی میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کی چھت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ بھڑک اٹھی اور رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حادثے میں دو افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ کئی خاندانوں کو عمارت خالی کرنا پڑی۔

رومانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون کو نیٹو فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ریڈار پر ٹریک کیا گیا تھا، جس کے بعد دو ایف-16 طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر فوری طور پر روانہ کیے گئے۔ تاہم حکام کے مطابق ڈرون کی نشاندہی اور عمارت سے ٹکرانے کے درمیان صرف چار منٹ کا وقت تھا جس کے باعث اسے مار گرانا ممکن نہ ہوسکا۔

رومانیہ کے صدر نکوشور ڈین نے واقعے کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ رومانیہ نے روسی سفیر کو بھی طلب کرلیا ہے جبکہ نیٹو اور یورپی یونین نے بھی روس کے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ روس کی جارحیت نے ایک اور خطرناک حد عبور کرلی ہے۔ نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ روس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ پورے یورپ کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور نیٹو اپنے ہر رکن ملک کے دفاع کیلئے تیار ہے۔

رپورٹس کے مطابق روسی ڈرونز اس سے قبل بھی کئی بار رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوچکے ہیں، تاہم یہ پہلا واقعہ ہے جس میں کسی رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔

ادھر یوکرین کے جنوبی علاقوں میں بھی رات بھر فضائی حملوں کے سائرن بجتے رہے جبکہ بحیرہ اسود میں یوکرینی تجارتی بحری جہازوں پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے رات بھر میں 200 سے زائد یوکرینی ڈرون مار گرائے۔

Load Next Story