کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہاز آپس میں ٹکرا گئے
کراچی پورٹ کی حدود میں دو بحری جہازوں، ایم وی این آئی ڈبلیو اے اور ایم وی پاپو کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو نقصان پہنچا جبکہ دوسرے جہاز سے کنٹینرز سمندر میں گر گئے۔
پورٹ حکام کے مطابق حادثہ گزشتہ شام اس وقت پیش آیا جب کراچی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے کنٹینر بردار بحری جہاز ایم وی پاپو نے زیرِ سمندر کیبلز کی دیکھ بھال کرنے والے جہاز ایم وی این آئی ڈبلیو اے کو ٹکر مار دی۔
تصادم کے باعث ایم وی این آئی ڈبلیو اے کے اگلے حصے (بو) کو نقصان پہنچا جبکہ ایم وی پاپو سے ایک کنٹینر سمندر میں جا گرا۔
حادثے کے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پائلٹس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ جہاز ایم وی این آئی ڈبلیو اے کو بحفاظت برتھ نمبر 5 پر منتقل کر دیا، جبکہ ایم وی پاپو اس وقت آؤٹر اینکریج پر موجود ہے۔
پورٹ ذرائع کے مطابق ٹکر مارنے والے بحری جہاز ایم وی پاپو کو پاکستان کی سمندری حدود میں روک لیا گیا ہے اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زیر صدارت واقعے سے متعلق اہم اجلاس جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ جہاز کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، جس کے بعد ذمہ دار جہاز کے مالکان سے ہرجانہ وصول کیا جائے گا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کے قریب بحری حادثے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود کے باہر رونما ہوا، بحری حادثے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بندرگاہ پر بروقت ردعمل اور مؤثر انتظامات پر عملے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، دو غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان حادثے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ حادثہ 28 مئی کی شب کراچی پورٹ کے قریب دونوں جہازوں کے ماسٹرز کی غفلت کے باعث پیش آیا، متاثرہ کیبل بچھانے والے جہاز کو کے پی ٹی ٹگس کی مدد سے بحفاظت بندرگاہ منتقل کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بحری حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
چیئرمین کراچی پورٹ، ایڈمرل شاہد احمد کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، متاثرہ جہاز کو ہر ممکن تکنیکی اور آپریشنل معاونت فراہم کی گئی۔