امریکی یونیورسٹی پر سنگین الزامات، اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف
امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر سائنسی تحقیق اور تربیت کے نام پر انسانی لاشیں امریکی بحریہ کو فراہم کرتی رہی ہے جو بعد ازاں اسرائیلی فوجی سرجنوں کی تربیت میں استعمال کی جاتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف ایک طالب علم صحافی کی تحقیقاتی ٹیم نے 2025 میں کیا، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) سے عطیہ کیے گئے انسانی جسم نہ صرف تعلیمی مقاصد بلکہ فوجی تربیتی پروگراموں میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2018 سے اب تک تقریباً 90 انسانی لاشیں امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی پروگراموں کے تحت استعمال ہوئیں۔ ان پروگراموں کا مقصد فوجی سرجنوں کو جنگی حالات میں پیچیدہ آپریشنز کی عملی تربیت دینا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تربیت کے دوران انسانی جسموں میں مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقی زخمی انسانوں جیسا منظر پیش کریں، جبکہ ان پر گولیوں اور دھماکوں جیسے زخموں کی مشق بھی کرائی جاتی ہے۔
اس انکشاف کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں صرف تعلیمی تحقیق کے لیے عطیہ کی تھیں، نہ کہ فوجی استعمال کے لیے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک تعلیمی پروگرام ہے اور اس کا مقصد طبی تربیت فراہم کرنا ہے، تاہم یونیورسٹی نے فوجی استعمال کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ تربیت جدید سرجیکل تکنیک سکھانے کے لیے کی جاتی ہے تاکہ میدان جنگ میں زخمیوں کی جان بچائی جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2013 سے یہ تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں اور غیر ملکی فوجی ڈاکٹرز بھی ان کورسز میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
اس معاملے نے عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں اعتماد کا بحران پیدا کر دیا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طبی تعلیم کے لیے انسانی جسموں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن اس کے استعمال میں مکمل شفافیت ناگزیر ہے۔