تائیوان کا دورہ کرنے کے ’جرم‘ میں چین نے نیوزی لینڈ کے 5 قانون سازون پر پابندی عائد کردی

نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے سفری پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا

چین نے تائیوان کا دورہ کرنے کے ’جرم‘ میں نیوزی لینڈ کے چار قانون سازوں پر مُلک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے کلرک نے نیشنل کی مورین پگ، لیبر کی ڈنکن ویب، اے سی ٹی کی لورا میک کلور اور نیوزی لینڈ فرسٹ کے ڈیوڈ ولسن کو مطلع کیا کہ چینی حکام نے مئی میں تائیوان کے پانچ روزہ دورے کیوجہ سے ایک سال کے لیے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چینی سفارت خانے نے کہا کہ اگر قانون ساز معافی مانگیں تو پابندیاں کم یا ختم کی جا سکتی ہیں۔

تاہم نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک نیوزی لینڈ کے لوگوں کے فائدے کے لیے تائیوان کے ساتھ "تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور مقامی تبادلے" جاری رکھے گا اور  تائیوان کے دورے کے دوران قانون ساز حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔

وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو چینی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھائیں اور عائد سفری پابندیوں پر تشویش کا اظہار کریں۔

Load Next Story