آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے پیش کی گئی تجاویز میں برآمدات کے شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے پیش کی گئی تجاویز میں برآمدات کے شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

انہوں نے مجوزہ 15 ہزار 200 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اہداف غیر معمولی طور پر بڑھا کر مقرر کیے گئے اور بعد میں کم کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اور نمو کے اہداف متعلقہ شعبوں سے مشاورت کے بعد مقرر کیے جانے چاہئیں، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے اکنامک تھنک ٹینک نے 30 سالہ معاشی منصوبہ بھی پیش کیا ہے جسے پالیسی سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

ثاقب فیاض مگوں نے سپر ٹیکس کے خاتمے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے، کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد اور سیلز ٹیکس 15 فیصد کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ محدود تعداد میں ٹیکس دہندگان اٹھا رہے ہیں اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے برآمدات کے لیے فکسڈ اور فائنل ٹیکس ریجیم بحال کرنے، ایف بی آر آڈٹ سے استثنا دینے، صنعتی خام مال پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے اور کاٹن سیڈ، کھل اور بنولہ پر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کی لاگت کم کیے بغیر پاکستان آئی ایم ایف کے دباؤ سے نہیں نکل سکتا، جبکہ بجلی، گیس، مالیاتی لاگت اور ٹیکسوں کو خطے کے مسابقتی ممالک کے برابر لایا جائے تو برآمدات 50 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے فاٹا اور پاٹا کے کوٹے کے مبینہ غلط استعمال، صنعتی خام مال کی درآمد میں ٹیکس چوری اور غیر رجسٹرڈ کاروبار پر عائد اضافی ٹیکس کے باعث جعلی انوائسز اور ریفنڈز کے مسائل کی نشاندہی بھی کی۔

ثاقب فیاض مگوں نے چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے خصوصی اسکیم تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ان پر نصف فیصد ٹرن اوور ٹیکس اور دو ہزار روپے ماہانہ فکس ٹیکس عائد کیا جائے اور پانچ سال تک آڈٹ سے استثنا دیا جائے، جس سے 30 لاکھ تک چھوٹے تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کیش لیس معیشت، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی، کم از کم تنخواہ میں 15 سے 20 فیصد اضافے اور برآمدی شعبے کے لیے طویل المدتی پالیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں 864 ارب روپے کا شارٹ فال ہے اور بزنس کمیونٹی سے مشاورت کے بغیر ٹیکس اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، ٹیکس شرح میں کمی، قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے اور ایس ایم ایز کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا۔

صنعتکار شبیر منشا نے کہا کہ بجٹ کی سمت واضح نہیں، سولر توانائی میں سرمایہ کاری کے بعد اس شعبے پر مزید ٹیکسوں کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیکس دہندگان کا ٹیکس وصولی کے نظام پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے اور حکومت کی جانب سے طویل المدتی معاشی پالیسی نظر نہیں آتی۔

Load Next Story