سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رحمان بھولا کے بیان کی قانونی حیثیت پر جواب طلب
سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سزائے موت اور ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کی آبزرویشن کے خلاف اپیلوں پر پراسیکیوشن سے نمونوں کی قانونی اور سائنسی حیثیت پر وضاحت اور رحمان بھولا کے بیان کی قانونی حیثیت پر بھی جواب طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سزائے موت اور ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کی ابزرویشن کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔
ایم کیو ایم پاکستان کی جانب فروغ نسیم ایڈووکیٹ اور ممبر قومی اسمبلی حسان صابر ایڈووکیٹ جبکہ فیصل صدیقی کراچی رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔
عدالت نے پراسیکیوشن کی جانب سے فیکٹری کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگانے کے دعوے پر سوال اٹھادیئے۔ عدالت نے پراسیکیوشن سے استفسار کیا کہ کیمیکل پھینک کر آگ لگانے کے دعوے کی بنیاد کیا ہے؟ کیا ملزم زبیر کو کسی نے آگ لگاتے ہوئے دیکھا کوئی ویڈیو یا اس کے شواہد ٹرائل کورٹ میں پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ عدالت میں شواہد پیش کئے گئے تھے۔ حسان صابر ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ عدالت میں ایسے کوئی شواہد پیش نہیں ہوئے۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف دیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے اپیل کے فیصلے میں ایم کیو ایم پاکستان کو سنے بغیر سخت ریمارکس دیئے۔
عدالت نے پراسیکیوشن سے سوالات کے جوابات طلب کرلئے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیمیکل کے نمونے ملے نہیں تھے تو فیکٹری کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگانے کا الزام عائد کیسے کیا گیا؟ آپ نے 3 سال بعد فیکٹری کا معائنہ کرکے کیسے سیمپل حاصل کئے؟ عدالت نے نمونوں کی قانونی اور سائنسی حیثیت پر وضاحت طلب کرلی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ رحمان عرف بھولا نے اپنے بیان میں ایم کیو ایم سے تعلق ظاہر اور متعدد غیر قانونی سرگرمیوں کا اعتراف کیا تھا۔ رحمان عرف بھولا کے اعترافی بیان کے باوجود اس کیخلاف کوئی اور ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟
عدالت نے پراسیکیوشن سے رحمان بھولا کے بیان کی قانونی حیثیت پر بھی جواب طلب کرلیا۔ دوران سماعت مختلف گواہوں کے بیانات عدالت کے روبرو پڑھے گئے۔
سماعت کے دوران دوران شواہد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے سماعت آج بروز جمعرات تک ملتوی کردی۔ ملزم رحمان بھولا اور زبیر کی جانب سے سزائے موت سمیت دیگر سزاؤں کیخلاف اپیل دائر کر رکھی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی ہائیکورٹ کی آبزرویشن کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔