امریکی حملوں کے بعد ایران متحرک، سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے ہنگامی رابطے

ان رابطوں کے دوران امریکا کے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ان رابطوں کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، امریکا کے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ اور ترک وزیر خارجہ کو ایران کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے ایران کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج نے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جارحیت کا جواب دیا ہے اور یہ اقدام ایران کے حقِ دفاع کے تحت کیا گیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران خطے میں امن و استحکام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے موجودہ کشیدگی کے ممکنہ اثرات اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی بات چیت کی۔

عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا کہ ایران خطے کے امن اور استحکام کو اہمیت دیتا ہے، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملے کے خلاف اپنے دفاع سے دستبردار نہیں ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

Load Next Story