’’ناجائز تعلقات پر مجھے بلیک میل کیا گیا‘‘، ایپسٹین کیس میں بل گیٹس کا بڑا بیان سامنے آگیا

بل گیٹس نے بتایا کہ 2011 اور 2012 کے دوران ان کی ایپسٹین سے چند ملاقاتیں ہوئیں

بل گیٹس کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات کی خبریں آئی تھیں

مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت بل گیٹس نے بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے تعلقات کے حوالے سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سامنے تفصیلی گواہی دی ہے۔

بند کمرے میں ہونے والی اس سماعت کے بعد بل گیٹس نے اپنا ابتدائی بیان بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے ایپسٹین سے روابط اور بعد میں پیش آنے والے معاملات پر روشنی ڈالی۔

بل گیٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں کبھی ایسا کوئی اشارہ یا ثبوت نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا کہ جیفری ایپسٹین کسی جاری مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق وہ نہ کبھی ایپسٹین کے نجی جزیرے گئے، نہ اس کی رہائش گاہوں پر اور نہ ہی فلوریڈا میں موجود اس کے گھر کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ان کے اور ایپسٹین کے درمیان کوئی قریبی ذاتی تعلق تھا۔

بل گیٹس کے مطابق ان کی پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی، جب وہ اپنے فلاحی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور سرمایہ کاروں کی تلاش میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین خود کو ایسا شخص ظاہر کرتا تھا جو عالمی صحت کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر جمع کر سکتا ہے اور بااثر شخصیات تک رسائی رکھتا ہے۔ اسی بنیاد پر چند ملاقاتیں ہوئیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ ایپسٹین اپنے دعووں کو عملی شکل دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

بل گیٹس نے بتایا کہ 2011 اور 2012 کے دوران ان کی ایپسٹین سے چند ملاقاتیں ہوئیں، لیکن دسمبر 2014 میں انہوں نے تمام رابطے ختم کر دیے۔ ان کے مطابق نہ کوئی خیراتی فنڈ قائم ہو سکا اور نہ ہی کسی منصوبے کے لیے مالی وسائل اکٹھے کیے جا سکے، جس کے بعد انہوں نے اس تعلق کو آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔

گواہی کے دوران بل گیٹس نے ان ای میلز کا بھی حوالہ دیا جو ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایپسٹین ان کی ازدواجی زندگی سے باہر تعلقات کے بارے میں معلومات استعمال کر کے ان پر دباؤ ڈالنا چاہتا تھا۔ گیٹس کے مطابق یہ معاملات ان کی ذاتی زندگی سے متعلق تھے اور ان کا ایپسٹین کے ساتھ ملاقاتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم اس طرزِ عمل نے ان کے خاندان کو ضرور تکلیف پہنچائی۔

بل گیٹس نے کہا کہ بعد میں منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ ایپسٹین ان کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات اور بعض غلط بیانیوں کو استعمال کرکے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ابتدا میں ایپسٹین سے ملاقات کرنا ان کی ایک بڑی غلطی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایپسٹین کے ساتھ ان کی ملاقاتوں سے اس شخص کو کسی قسم کی ساکھ یا اعتبار حاصل ہوا تو انہیں اس پر گہرا افسوس ہے۔ بل گیٹس نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں یہ سبق سکھایا کہ محدود نوعیت کے تعلقات قائم کرتے وقت بھی لوگوں کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔

یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کی وسیع تحقیقات کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے بااثر سیاسی، کاروباری اور سماجی شخصیات سے کیا روابط تھے اور آیا کسی نے اسے احتساب سے بچانے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر کے مطابق بل گیٹس سے ایپسٹین اور اس کی سابق ساتھی گھسلین میکسویل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات کیے گئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بل گیٹس پر کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا جا رہا۔

واضح رہے کہ ایپسٹین پر کئی دہائیوں تک کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے ایک وسیع نیٹ ورک چلانے کے الزامات تھے۔ 2019 میں وہ وفاقی مقدمات کا سامنا کر رہا تھا جب اسے جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا، جبکہ حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ اس کیس سے متعلق دستاویزات اور بااثر شخصیات کے روابط آج بھی امریکا میں شدید بحث اور تحقیقات کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

Load Next Story