تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا ریلیف، 4 سلیب میں تقسیم، سرچارج ختم کرنے کی تجویز

بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرچارج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور بجٹ میں باقاعدہ تجاویز پیش کردی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کردیا، جس میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی مد میں ریلیف کا اعلان کیا گیا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری اور نجی تنخوا دار طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہے اور ان کی ہدیات پر حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو 4 سلیب میں تقسیم کیا ہے۔

بجٹ میں تجویز کردہ ریلیف کے مطابق سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ تنخواہ کے حامل افرد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی، سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کی آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا جبکہ پچھلے سال کے بجٹ میں سرچارج 10 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کیا گیا تھا تاہم اب مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔

Load Next Story