ماہرین 20 برس پُرانے خلائی معمے کو حل کرنے کے قریب
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے پراسرار خلائی راز کو سمجھنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس نے تقریباً دو دہائیوں سے سائنس دانوں کو الجھا رکھا تھا۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے محققین نے ان طویل دورانیے والے ریڈیو سگنلز (Long-Period Radio Transients) کے ایک ممکنہ منبع کو ایک خاص دوہری ستاروی نظام سے جوڑا ہے، جسے ASKAP J1745-5051 کہا جاتا ہے۔
سائنس دان 2005 سے ان پراسرار سگنلز کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عام طور پر کائنات میں پیدا ہونے والے ریڈیو سگنلز چند سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن یہ عجیب سگنلز کئی منٹ اور بعض اوقات ایک گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہتے ہیں۔
تحقیق میں آسٹریلین ایس کے اے پاتھ فائنڈر ریڈیو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ سگنل دو ستاروں کے ایک نہایت قریبی جوڑے سے آ رہے ہیں۔ اس جوڑے میں ایک وائٹ ڈوارف یعنی سورج جیسے ستارے کے مرنے کے بعد بچ جانے والا انتہائی گھنا اور چھوٹا مرکز اور ایک ریڈ ڈوارف نسبتاً چھوٹا اور کم روشن ستارہ شامل ہے۔
محققین کے مطابق وائٹ ڈوارف اپنے قریبی ریڈ ڈوارف سے مادہ کھینچ رہا ہے۔ یہ دونوں ستارے صرف 1.4 گھنٹے میں ایک دوسرے کا چکر مکمل کرتے ہیں۔
ان دونوں ستاروں کا مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی ہے۔ مدار کے مخصوص حصے میں جب دونوں ستارے ایک دوسرے کے بہت قریب آتے ہیں تو ان کے طاقتور مقناطیسی میدان آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔
یہی مقناطیسی تصادم زبردست توانائی خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پراسرار اور طویل دورانیے والے ریڈیو سگنلز پیدا ہوتے ہیں جو زمین پر موجود دوربینیں دریافت کر رہی ہیں۔