پگھلتے گلیشیئرز زیرِ سمندر ماحول تبدیل کر رہے ہیں: تحقیق

فرام اسٹریٹ سے گزرنے والے برفانی تودوں کی تعداد 2000 کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے: تحقیق

محققین نے انکشاف کیا ہے کہ فرام اسٹریٹ (جو گرین لینڈ اور سوالبارڈ کے درمیان واقع سمندری راستہ ہے) سے گزرنے والے برفانی تودوں (آئس برگز) کی تعداد 2000 کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ شمال مشرقی گرین لینڈ اور روسی آرکٹک کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث برف کے بڑے ذخائر کا ٹوٹنا ہے۔

اگرچہ آئس برگز کی بڑھتی ہوئی تعداد خود زمین کے گرم ہوتے موسم کی ایک واضح علامت ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح کے نیچے ہونے والی تبدیلیاں اس سے بھی زیادہ حیران کن ہیں۔

یہ برفانی تودے جب آرکٹک کے پانیوں میں سفر کرتے ہیں تو اپنے ساتھ ہزاروں برس پرانی چٹانیں، پتھر اور مٹی بھی لے کر چلتے ہیں جو برف میں قید ہوتی ہیں۔ جب یہ آئس برگز پگھلتے ہیں تو یہ تمام مواد سمندر کی تہہ میں جا گرتا ہے۔

نتیجتاً سمندر کی تہہ میں نئی سخت سطحیں وجود میں آتی ہیں جہاں سمندری حیات پنپنے لگتی ہے۔

اسفنج، کورلز اور دیگر جاندار ان نئی چٹانوں پر بسیرا اختیار کر رہے ہیں۔ یوں ایسے مقامات پر نئے آبی ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہے ہیں جو پہلے صرف کیچڑ اور ویران سمندری میدانوں پر مشتمل تھے۔

سائنس دان ان چٹانوں کو ’ڈراپ اسٹونز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ پتھر اور چٹانی مواد ہے جو گلیشیئرز اپنے ساتھ لاتے ہیں اور آئس برگز کے پگھلنے پر سمندر کی تہہ میں چھوڑ دیتے ہیں، جہاں یہ سمندری حیات کے لیے نئی پناہ گاہیں اور بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف موجودہ ماحول کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ بعض جگہوں پر بالکل نئے ماحول اور ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے رہی ہے۔

Load Next Story