برطانیہ میں فلسطین ایکشن کے حامیوں کی گرفتاریاں، حماس کی جانب سے عدالتی فیصلے کی مذمت

حماس کے مطابق فلسطین ایکشن پر پابندی انسانی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف اقدام ہے

لندن: برطانیہ میں فلسطین کے حامی کارکنوں کی تنظیم فلسطین ایکشن کے حامیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جبکہ برطانوی عدالت نے تنظیم کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی کورٹ آف اپیل نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے فلسطین ایکشن کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دینا قانونی طور پر درست ہے۔ عدالت نے اس طرح ایک نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا جس میں تنظیم پر پابندی کو غیر قانونی اور غیر متناسب قرار دیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد برطانیہ کے مختلف علاقوں میں فلسطین ایکشن کے حامیوں نے احتجاج کیا، جس دوران متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں عوامی نظم و ضبط اور نافذ قوانین کے تحت عمل میں لائی گئیں۔

 

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے برطانوی عدالت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔

حماس کے بیان میں کہا گیا کہ اس پابندی کا مقصد فلسطینی حقوق کی حمایت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنا اور غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کو محدود کرنا ہے۔

 

حماس کے مطابق فلسطین ایکشن پر پابندی انسانی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف اقدام ہے۔ تنظیم نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو دبانے کی کوششیں مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تنازعات کو جنم دیں گی۔

 

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے فلسطین ایکشن کو ٹیررازم ایکٹ 2000 کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی بعض سرگرمیاں قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں اس فیصلے کو شہری آزادیوں کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔

Load Next Story