ایران اچھا رویہ اپنائے تو معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کر سکتا ہے، جے ڈی وینس
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے تحت تہران کو اہم اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم یہ فوائد صرف اسی صورت میں ملیں گے جب ایران اپنے طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی لائے گا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، دوسری شرط آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا ہے، جبکہ تیسری شق ایران کو ممکنہ اقتصادی اور سفارتی فوائد فراہم کرنے سے متعلق ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر ایران دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بند کر دے، جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی بحالی کی حمایت ترک کر دے اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرے تو اسے حقیقی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران ان شرائط پر عمل نہیں کرتا تو اسے کسی قسم کا فائدہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کی صورت میں امریکا ہر حال میں فائدے کی پوزیشن میں رہے گا۔
"Donald Trump did exactly what he came to do."
— Fox News (@FoxNews) June 17, 2026
VP JD Vance touted the administration's Iran strategy during an appearance on @Gutfeldfox, arguing that the U.S. achieved its core objectives and now holds the leverage moving forward.
"We accomplished what we set out to accomplish… pic.twitter.com/btakD623Mt
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو، عالمی توانائی کی ترسیل بحال رہے اور خطے میں طویل المدتی استحکام پیدا کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے فیصلے ہی طے کریں گے کہ اسے معاہدے کے فوائد ملتے ہیں یا نہیں ملتے ہیں۔