ای او بی آئی کرپشن کیس میں گناہ و ثواب میں ہم سب شریک ہیں، چیف جسٹس آئینی عدالت

میرے مؤکل سے 790 ملین کا پلاٹ خریدا گیا جبکہ تخمینے میں اس کی مالیت 540 ملین تھی، وکیل کے دلائل

اسلام آباد:

چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین  خان نے ریمارکس دیے ہیں کہ ای او بی آئی کرپشن کیس میں گناہ و ثواب میں ہم سب شریک ہیں۔

ای او بی آئی کرپشن کیس  کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں ہوئی،  جس میں چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ  ای او بی آئی کیس کے گناہ و ثواب میں ہم سب شریک ہیں۔ یہ کیس 2013 سے چل رہا ہے اس کا حل کیا ہے؟ ۔

وکیل علی ظفر  نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس سے یہ مقدمہ شروع ہوا تھا۔ کیس یہ تھا کہ ای او بی آئی نے 18 جائیدادیں اصل سے کئی گنا زائد قیمت پر خریدیں۔  عدالتی حکم پر جائیدادوں کی اصل قیمت کا تخمینہ لگایا گیا۔ میرے موکل سے مال روڈ لاہور کا پلاٹ 790ملین میں خریدا گیا جب کہ لگائے گئے تخمینہ کے مطابق پلاٹ کی مالیت 540ملین تھی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب ای او بی آئی کچھ جائیدادیں رکھنا اور کچھ واپس کرنا چاہتا ہے۔ میرے موکل کو کہا گیا پلاٹ بھی دو اور اضافی وصول شدہ رقم بھی۔

سماعت میں سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے وکیل آج نہیں ہیں، چاہتا ہوں میرا مؤقف سنے بغیر فیصلہ نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب عدالت میں کوئی جانبداری نہیں ہے۔ آج التوا کی درخواست آئی ہوئی ہے، تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ جن حالات میں کیس شروع ہوا تب جائیدادوں کی مالیت بھی کچھ اور تھی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میرا موکل تو کہتا ہے پلاٹ کی موجودہ مالیت 2300 ملین ہے۔ پلاٹ واپس کر دیں تو میں خوشی سے چھلانگیں ماروں گا۔

بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو آئندہ سماعت تک قابل عمل حل تجویز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی ۔

Load Next Story