کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر، ملازمین کی تنخواہوں، پنشن میں اضافہ، وزیر اعلیٰ سندھ نے ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا
سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کردیا۔
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔
اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی بجٹ پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے، جس پر ایوان میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اگر وہ تقریر نہیں کرنا چاہتے تو واک آؤٹ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اپنی نشستوں پر بیٹھ کر بجٹ کارروائی کا حصہ بنیں۔
اسپیکر نے ایوان میں موجود اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشستیں عوام کی امانت ہیں اور اگر وہ اجلاس میں رہنا چاہتے ہیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پوری قوم دیکھ رہی ہے اور عوامی فلاح کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل گیارہویں بجٹ کی پیشکش ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے، جبکہ سندھ کی عوام نے ہمیشہ ایک ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 260 ارب روپے کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے اپنے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر میں پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی، صوبے کا بجٹ آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح کے چار بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی ہے اور صوبے میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا اہم مرکز بنے گا، جبکہ عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں اور شہر کا معاشی مستقبل مزید روشن بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے منصوبوں سمیت 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کے منصوبوں کو مکمل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے گئے جبکہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔
بجٹ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے، تعلیم کے شعبے کے لیے 25.9 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ سوشل پروٹیکشن پروگراموں میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے اور صوبے میں عوامی فلاح اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
بجٹ میں سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک رلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے کا اعلان کیا گیا جب کہ صوبے میں کم از کم تننخواہ 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار کردی گئی۔
اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر وزیراعلیٰ سندھ کی کاوشوں کو سراہا گیا۔
اس موقع پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی رہنمائی میں عوامی خدمت کا سفر جاری رکھا جائے گا اور نئے مالی سال میں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ محنت کش طبقے کے لیے کم از کم اجرت سے متعلق اہم فیصلہ بھی نئے بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سندھ کے ترقیاتی بجٹ 2026-27 کا مجموعی حجم 656 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 641 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح رواں مالی سال 3,715 ترقیاتی اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 350 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ غیر منظور شدہ منتقل شدہ اسکیموں کے لیے 34 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
فارن پروجیکٹ اسسٹنس (FPA) کے تحت 256 ارب روپے سے زائد رقم شامل کی گئی ہے۔ کچے کے علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے 1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ پسماندہ اضلاع کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
تعلیم و صحت
سندھ حکومت نے رواں مالی سال تعلیم اور صحت کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے لیے 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ صحت کے شعبے کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں متعدد جاری منصوبے بھی شامل ہیں۔
اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38.21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ صوبے بھر میں کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل تعلیم کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دیگر شعبوں کا بجٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 9.22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ازیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.30 ارب روپے کی تجویز ہے۔ توانائی کے شعبے میں 5.18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کے لیے 4.90 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے منصوبوں کے لیے 2.78 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ جنگلات و جنگلی حیات کے شعبے کے لیے 2.39 ارب روپے کی تجویز ہے۔
ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے منصوبوں کے لیے 54.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ محکمہ خوراک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
زراعت کے لیے 4.9 ارب روپے مختص
سندھ اے ڈی پی 2026-27 میں زراعت کے شعبے کے لیے 4.9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز کے لیے 4.899 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کرنے کی تجویز ہے جب کہ زرعی توسیع کے 9 منصوبوں کے لیے 65.67 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
زرعی مارکیٹنگ کے 3 منصوبوں کے لیے 1.319 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی میکانائزیشن کے 5 منصوبوں کے لیے 70.96 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ زرعی تحقیق کے لیے 25.52 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح ایگریکلچر واٹر مینجمنٹ کے 7 منصوبوں کے لیے 1.884 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سپلائی، پرائسز، ویٹس اینڈ میژرز کے منصوبے کے لیے 3.07 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جب کہ زرعی تربیت و تحقیق کے منصوبے کے لیے 4.38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
زراعت کے شعبے میں مجموعی طور پر 31 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے زرعی پیداوار، جدید مشینری، آبی نظم و نسق اور زرعی منڈیوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
کراچی کے میگا پراجیکٹس
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے میگا پراجیکٹس کے لیے 14 ارب 11 کروڑ 63 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 25 جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔
اسی طرح کراچی کے 17 غیر منظور شدہ جاری منصوبوں کے لیے 6.94 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 8 کیری فارورڈ منصوبوں کے لیے 7.17 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کراچی میگا پراجیکٹس کا مجموعی تھرو فارورڈ حجم 35.81 ارب روپے ریکارڈ ہوا ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں کراچی کے انفرا اسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کراچی کے 25 میگا منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں ترقیاتی کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں 2026-27 میں کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی مجموعی تجویز منظور ہونے کا امکان ہے۔