امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اہم بیان سامنے آ گیا

ایران کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں، اسماعیل بقائی

تہران:

ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کی تفصیلات اور آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر اہم وضاحتیں جاری کی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ معاہدے کے متن پر دونوں ممالک کے صدور دستخط کر چکے ہیں جس کے بعد کئی اہم سفارتی مراحل ازسرنو ترتیب دیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی مجوزہ ملاقات دراصل دستخطی تقریب کے لیے نہیں تھی تاہم اب صورتحال تبدیل ہونے کے بعد اس ملاقات کے انعقاد یا منسوخی سے متعلق فیصلہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گی۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے فوری سطح پر تکنیکی مذاکرات شروع کیے جائیں گے جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری کے تحت دیکھے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی جاری رہی خصوصاً لبنان پر حملے برقرار رہے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور خدمات کی فراہمی کے بدلے فیس وصول کی جائے گی جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا اختیار موجود ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں اور نہ ہی ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 60 روز کے اندر فریقِ ثانی کو خطے میں فوجی موجودگی بڑھانے یا نئی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

ایران کے مطابق اسی مدت میں تیل کی پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں اور ایران کو اپنی تیل کی برآمدات دوبارہ مکمل طور پر بحال کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی، جبکہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی بیرونی دباؤ یا گفتگو کو تہران مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ معاہدہ اگرچہ ایک نئی سفارتی پیش رفت ہے تاہم اس پر عمل درآمد خطے میں اعتماد سازی اور باہمی احترام سے مشروط ہوگا۔

متعلقہ

Load Next Story