امریکا سے معاہدے پر متفق نہیں تھا، اپنے صدر کی یقین دہانی پر منظوری دی؛ سپریم لیڈر
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مستقبل میں آمنے سامنے مذاکرات کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوگا کہ ایران دشمن کا مؤقف قبول کر لے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری تحریری بیان میں رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات صرف سفارتی عمل کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنے قومی مؤقف یا اصولی مؤقف سے دستبردار ہوجائے گا۔
انھوں نے انکشاف کہا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے ان کی اپنی رائے مختلف تھی تاہم ایرانی صدر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اور ان کی حکومت ایرانی قوم کے حقوق اور مزاحمتی محاذ کے مفادات کا مکمل تحفظ کریں گے اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی اس یقین دہانی اور ذمہ داری قبول کرنے کے عہد کی بنیاد پر ہی میں نے معاہدے کی منظوری دی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا اس معاہدے پر عمل درآمد کے دوران لالچ یا اضافی مطالبات کرنے کی کوشش کرے گا تو ایران اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران معاہدے کی ان ہی شقوں کا پابند رہے گا جن پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہوا ہے تاہم کسی بھی یکطرفہ دباؤ یا نئی شرائط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آج ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی ہم منصب مسعود پزیشکیان اور مفاہمتی یادداشت کے ثالث پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اپنے ملک میں اس دستاویز میں دستخط کردیے۔
جس کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی دستخطی تقریب کو منسوخ کردیا گیا جہاں اب فریقین کی ٹیکنیکل ٹیم معاہدے پر مزید گفتگو کو جاری رکھے گی تاہم اس میں سربراہان شامل نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ معاہدہ پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے ایران نے آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی اور ساتھ امریکا نے بھی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح دونوں جانب سے سمندری ٹریفک بحال ہوگیا۔