بجٹ کی حمایت کے بدلے مراعات لینے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، گورنر خیبرپختونخوا
فوٹو: فائل
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے بجٹ کی تیاری میں مشاورت نہیں کی اور بجٹ کی حمایت کے بدلے مراعات لینے سے متعلق سوشل میڈیا کی خبریں بے بنیاد ہیں جبکہ کمزور قیادت کے باعث خیبرپختونخوا مسائل کا شکار ہے۔
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نوشہرہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بجٹ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے باضابطہ کوئی رابطہ نہیں کیا، بجٹ کی حمایت کے لیے نہ مجھ سے اور نہ ہی پی پی پی کی صوبائی قیادت سے مشاورت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی حمایت کے بدلے مراعات لینے سے متعلق سوشل میڈیا کی خبریں بے بنیاد ہیں، صوبائی حکومت مستقبل میں رابطہ کرے گی تو فیصلہ بلاول بھٹو زرداری کی مشاورت سے ہوگا، پارٹی کے کسی فرد کو انفرادی طور پر ایسے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں ورکرز کنونشنز منعقد کرے گی، بلاول بھٹو زرداری کا پیغام گھر گھر پہنچائیں گے، مستقبل میں بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کا کارکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی 13 سالہ اقتدار کے باوجود عوام کو روزگار، رہائش اور پائیدار امن فراہم نہ کر سکی، خیبرپختونخوا میں کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی خرید و فروخت کھلے عام ہو رہی ہے، میڈیا صوبائی حکومت سے بدامنی، بے روزگاری اور کرپشن میں اضافے پر بھی سوال کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ماہ تک سی این جی بند رہی لیکن صوبائی حکومت مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہی، حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ مؤقف اپنایا تو سی این جی بحالی ممکن ہوئی، پنجاب سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں پر صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل پورا ملک استعمال کر رہا ہے مگر صوبائی حکومت اپنے حقوق لینے میں ناکام ہے، وفاق اگر صوبے کو حق نہیں دیتا تو صوبائی حکومت کو مؤثر انداز میں آواز اٹھانی چاہیے، کمزور قیادت کے باعث خیبرپختونخوا مسائل کا شکار ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی ادارے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں لہٰذا خیبرپختونخوا پولیس کو دیگر صوبوں کے برابر تنخواہیں دی جائیں۔