ایبولا وائر سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جان لیوا ایبولا وائرس صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعصابی نظام میں طویل عرصے تک چھپا رہ سکتا ہے اور مہینوں یا حتیٰ کہ سالوں بعد دوبارہ سرگرم ہو کر نئے وبائی پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
ایبولا دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شمار ہوتا ہے، جو متاثرہ افراد میں تقریباً 90 فی صد تک اموات کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اس کی مختلف وباؤں میں اب تک مجموعی طور پر 28 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اس سے پہلے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ایبولا سے صحت یاب افراد بعض اوقات دوبارہ بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں یا صحت یابی کے مہینوں اور سالوں بعد جسم میں سوزش جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سائنس دانوں کو طویل عرصے سے شبہ تھا کہ یہ وائرس جسم کے کچھ ایسے حصوں میں چھپ سکتا ہے جہاں مدافعتی نظام کی نگرانی محدود ہوتی ہے تاکہ حساس بافتوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
اب ایک نئی تحقیق میں (جس میں لیبارٹری میں تیار کیے گئے منی برینز یعنی چھوٹے دماغی ماڈلز استعمال کیے گئے) یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایبولا وائرس دماغی بافتوں کے اندر چھپ کر مدافعتی نظام کی نگرانی سے بچ سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وائرس دماغ کے اندر موجود مدافعتی خلیوں جیسے ایسٹرو سائٹس اور مائیکروگلیا کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ لیبارٹری میں بنائے گئے ان دماغی ماڈلز میں مدافعتی نظام سے متعلق مالیکیولز بھی وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے۔