ایران امریکا مذاکرات میں لبنان تنازع سرفہرست ہوگا، تہران کا دوٹوک اعلان

اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے مالی اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا

تہران: ایران نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں سب سے اہم موضوع ہوں گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری صورتحال پر ایران کو شدید تحفظات ہیں اور آج کے مذاکرات میں اس مسئلے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت لبنان میں اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، اسی لیے یہ معاملہ آج کی بات چیت کا مرکزی موضوع ہوگا۔

اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں لبنان کی صورتحال کے علاوہ ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے مالی اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ بیرون ملک موجود ایرانی فنڈز تک رسائی بحال کی جائے اور ان پر عائد پابندیوں میں نرمی لائی جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری اجازت ناموں اور لائسنسز کے اجرا کا معاملہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ تیل کی برآمدات پر عائد رکاوٹوں کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کی معیشت کو سہارا مل سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے مختلف معاملات پر پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال، ایران کے منجمد اثاثے اور تیل کی برآمدات جیسے موضوعات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین کی نظر اب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اس اہم ملاقات پر مرکوز ہے، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے خطے کے کئی اہم تنازعات اور باہمی اختلافات پر بات چیت کریں گے۔

Load Next Story