سوئٹزرلینڈ؛ پاکستان کی میزبانی میں امریکا-ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل

پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بند کمرے میں ہوئے

فوٹو: عالمی میڈیا

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا-ایران مذاکرات کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے جبکہ مذاکرات 80 منٹ جاری رہنے کے بعد فریقین کو اندرونی مشاورت کا وقت دینے کے لیے عارضی طور پر معطل ہوگئے تھے۔

رپورٹس میں اس کے بعد ہونے والے مذاکرات سے متعلق کوئی تفصیل دی گئی تاہم مذاکرات سے قبل ایرانی وفد نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکا ابتدائی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے لبنان پر حملوں کو روکنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

قبل ازیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تیکنیکی سطح پر مذاکرات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم سمیت امریکا اور ایران کے وفود سوئٹزرلینڈ میں کانفرنس ہال میں پہنچے جہاں دونوں فریق کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔

پاکستان کی میزبانی میں بند کمرے میں امریکا اور ایران براہ راست مذاکرات کی میزپر آکر بیٹھ گئے ہیں، جہاں پاکستان نے مذاکرات کی میزبانی کے ساتھ ساتھ اجلاس کی صدارت بھی کی۔

برگن اسٹاک میں بند کمرے میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں اور چاروں فریقین کے بند کمرے میں مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینا، اعتماد سازی کے اقدامات آگے بڑھانا اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ برگن اسٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ہیں، اگر فریقین تکنیکی معاملات پر پیش رفت میں کامیاب رہے تو اس سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بھی فریقین کے ہمراہ موجود ہیں، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔

امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل افتتاحی تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تنازع کے سفارتی حل کے لیے ہمیں اختیارات دیے ہیں، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت تمام امور حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز نے بہترین قیادت اور اس موقع پر مذاکرات کی بہترین صلاحیت کا مظاہر کیا، جس پر انہیں سراہتے ہیں۔

جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پاکستان اور بھارت میں میرے زندگی کے دو انتہائی اہم ترین لوگ ہیں، بھارت سے میری اہلیہ ہیں اور پاکستان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 3 ماہ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جتنی بات کی ہے شاید ہی کسی سے کی ہو، اگر فیلڈ مارشل کی حکمت عملی نہ ہوتی تو شاید ہم یہاں نہ ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل ایک عظیم ملٹری لیڈر ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ایک بہترین سفاتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے عوام بالخصوص اور پوری دنیا کے لوگوں کو اس حوالے سے خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔

امریکی نائب صدر نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ امریکا کا عظیم دوست ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے ان کا اہم کردار رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ جن کی وجہ سے آج یہاں یہ اجلاس ہو رہا ہے، ہماری اچھی گفتگو ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توقع ہے نتیجہ خیز معاملات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، قطر کے برادر وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بہترین کردار ہے۔

 

متعلقہ

Load Next Story