مارچ کے بعد پہلی بار لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے رک گئے، اقوام متحدہ کا بڑا بیان

اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے

نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی۔ ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔

ترجمان نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی جانب سے لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں بھی دیکھی گئیں، اگرچہ ان کی شدت اور تعداد پہلے کے مقابلے میں کم رہی۔

دوجارک نے مزید بتایا کہ ہفتے کے روز امن فوج نے اسرائیلی فوج سے منسوب متعدد فضائی حملے اور فائرنگ کے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کیے تھے، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی کئی راکٹ یا میزائلوں کی پروازوں کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں جاری سفارتی کوششوں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باعث لبنان میں حالات میں جزوی بہتری دیکھی جا رہی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے ابھی مزید اقدامات درکار ہیں۔

Load Next Story