امریکا نیٹو ممالک کی مدد روک سکتا ہے؟ ٹرمپ کے تازہ بیان نے ہلچل مچا دی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکا کو ان کی مدد کی ضرورت پڑی اور انہوں نے تعاون نہ کیا تو امریکا بھی ان کی مدد سے انکار کر سکتا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نیٹو رکن ممالک پر تنقید کی اور کہا کہ امریکا نے مختلف فوجی کارروائیوں اور عالمی سکیورٹی کے لیے بھاری مالی اور عسکری وسائل خرچ کیے ہیں لیکن بعض مواقع پر اتحادی ممالک نے واشنگٹن کا ساتھ نہیں دیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’ہم نے اس سب پر بے شمار پیسہ خرچ کیا اور پھر جب ہمیں بعض نسبتاً چھوٹے معاملات میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم مدد نہیں کرنا چاہتے۔‘
امریکی صدر کا اشارہ حالیہ ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے دوران بعض نیٹو ممالک کی محدود حمایت کی جانب سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لے سکتا ہے اگر اسے محسوس ہو کہ دفاعی ذمہ داریوں کا بوجھ صرف واشنگٹن اٹھا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان نیٹو اتحاد کے مستقبل اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مغربی اتحاد میں اختلافات کو نمایاں کر سکتے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے امریکا کے قومی مفادات کے تحفظ کی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نیٹو ممالک پر دفاعی اخراجات میں کم حصہ ڈالنے اور امریکا پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔