ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملے، خطے میں ہائی الرٹ
ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ بحرین، کویت اور عراق میں حملے کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں اس کی بحری اور ایرو اسپیس فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
رئاسة الأركان العامة للجيش: الدفاعات الجوية تتصدى حاليًّا لهجمات صاروخية وطائرات مسيرة معادية
— كونا KUNA (@kuna_ar) June 28, 2026
- أصوات الانفجارات إن سمعت فهي نتيجة اعتراض منظومات الدفاع الجوي للهجمات المعادية
- ندعو الجميع إلى التقيد بتعليمات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة
#كونا #الكويت pic.twitter.com/fItZgcTsIm
پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی ایران کے ساحلی علاقوں پر مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو ایران اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع جواب دے گا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی طیاروں نے خلیج فارس میں واقع جزیرہ سیرک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ایرانی فضائی دفاع نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
تم إطلاق صافرة الإنذار ، نرجو من المواطنين والمقيمين الهدوء والتوجه لأقرب مكان آمن ومتابعة الأخبار عبر القنوات الرسمية.
— Ministry of Interior (@moi_bahrain) June 27, 2026
دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے ملک میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
کویت کی مسلح افواج نے بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہے۔ حکام کے مطابق سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ ہیں جبکہ شہریوں کو سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں بھی غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خصوصی فورسز، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے اور گرین زون کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
بعض رپورٹس میں اعلیٰ سرکاری شخصیات کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم عراقی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔