امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے ہفتہ کی صبح اس کی سرزمین پر متعدد ڈرون حملے کیے جو ان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا صدر دفتر بھی قائم ہے اور ایران نے اسی وجہ سے امریکا کے فضائی حملے کا جواب دینے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا ہے۔
جنگ بندی کے بعد پہلی بار پیدا ہونے والی اس کشیدگی کا آغاز پرسوں ہوا جب صدر ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں چار جہازوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا جس میں تین کو امریکی فوج نے فضا میں ہی تباہ کردیا تھا تایم ایک جہاز سے ٹکرا گیا۔
جس پر امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے جمعہ کو ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات پر حملے کیے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی دفاع نظام نے امریکی میزائل و ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کردیا تاہم حملوں میں جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے ساحلی ریڈار، میزائل اور ڈرون سے متعلق تنصیبات پر امریکی حملے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ جس کا جواب دیا جائے گا۔