آبنائے ہرمز کے قریب ایران پر امریکی حملے کی ویڈیو جاری، 10 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران میں کیے گئے فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوج سے متعلق 10 اہم فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر انجام دی گئیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کرنا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جاری کردہ ویڈیو میں فضائی کارروائی کے مختلف مناظر اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لمحات دکھائے گئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے امریکی دعووں یا ویڈیو پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
U.S. Navy and Air Force fighter jets conducted strikes tonight on 10 Iranian military targets at multiple locations in and near the Strait of Hormuz for Iran's drone attack on M/T Kiku. pic.twitter.com/Z0TLZRqmF6
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 28, 2026
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس حساس علاقے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔