سانحہ گل پلازہ کا چالان پراسیکیوشن کے پاس جمع، ملزمان کے نام بھی سامنے آگئے

پولیس نے زیادہ تر اعتراضات دور نہیں کیے جبکہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی

فوٹو: فائل

کراچی:

نبی بخش پولیس نے سانحہ گل پلازہ کا چالان پراسیکیوشن کے پاس جمع کروا دیا، جو اسکروٹنی کے بعد عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔

کراچی سٹی کورٹ میں تھانہ نبی بخش پولیس کے تفتیشی افسر نے سانحہ گل پلازہ کا چالان پراسیکیوشن کے پاس جمع کروا دیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق اسکروٹنی کے بعد چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا، پولیس نے زیادہ تر اعتراضات دور نہیں کیے جبکہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی۔

جمع کروائے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ حادثاتی طور پر لگی جس کی فرانزک رپورٹ میں تصدیق ہوگئی۔ پولیس نے دکاندار نعمت اللہ کو ملزم نامزد کیا ہے جبکہ مقدمے میں دکاندار کے بیٹے 11 سالہ حذیفہ کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

چالان کے مطابق گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے تاہم تمام ملزم عدم گرفتار ہیں۔ گل پلازہ آتشزدگی کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے اور 4 لاشوں کے باقیات تاحال کسی نے حاصل نہیں کی، 4 عینی شاہدین کے 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔

پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ کے مطابق فرانزک میں کوئی دھماکا خیز مواد نہیں پایا گیا، آگ کی شروعات دکان نمبر 193 سے ہوئی۔ دکاندار نعمت اللہ اکثر اوقات اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے کے سپرد کرکے چلا جاتا تھا۔ حذیفہ کے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکے سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگی۔

چالان کے مطابق نعمت اللہ اور حذیفہ غفلت و لاپروائی کے مرتکب پائے گئے ہیں، کم عمر پچے کو دکان پر کام سے نا روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت ہے۔ آتشزدگی کے بعد مارکیٹ یونین نے ایمرجنسی اطلاع اور مدد طلب نہیں کی۔

جمع کروائے گئے چالان کے مطابق گل پلازہ کے مکمل گیٹ بند تھے اور یونین نے بروقت گیٹ نہیں کھلوائے۔ دروازے بند ہونے سے لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات ہوئیں۔ دروازے بند ہونا انتظامیہ کی غفلت ہے۔ یونین صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کرکے بجلی بند کروائی، اندھیرے کی وجہ سے لوگ مارکیٹ کے اندر پھنسے رہے۔

متعلقہ

Load Next Story