شدید گرمی میں اسمارٹ فون کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ ماہرین کی اہم ہدایات

ٹیکنالوجی ماہرین نے گرمی میں فون کو محفوظ رکھنے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں

شدید گرمی اور ہیٹ ویوز صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اسمارٹ فونز کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں موبائل فونز بیٹری کی خرابی، کارکردگی میں کمی اور اچانک بند ہونے جیسے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، اس لیے گرمی کے موسم میں فون کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہ گیا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، تعلیم، دفتری امور، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت بے شمار کام انہی ڈیوائسز کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان کی کارکردگی اور عمر پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی میگزین لیول اپ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اسمارٹ فونز صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس حد سے زیادہ گرمی، خاص طور پر براہِ راست دھوپ میں رہنے کی صورت میں، فون کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں، جس سے بیٹری کی عمر کم، پروسیسر کی رفتار متاثر اور بعض اوقات ہارڈویئر مستقل طور پر خراب بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسکرین پر ’’فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے‘‘ یا ’’Device is too hot‘‘ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو فوراً فون کا استعمال روک دینا چاہیے، کیونکہ یہ دراصل ڈیوائس کا حفاظتی نظام ہوتا ہے جو ممکنہ نقصان سے بچنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین نے گرمی میں فون کو محفوظ رکھنے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں۔ ان کے مطابق موبائل فون کو کبھی بھی دھوپ میں کھڑی بند گاڑی کے اندر نہ چھوڑیں، کیونکہ چند ہی منٹوں میں گاڑی کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو بیٹری اور اسکرین کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی طرح کمزور موبائل سگنلز والے علاقوں میں فون مسلسل نیٹ ورک تلاش کرتا رہتا ہے، جس سے بیٹری زیادہ گرم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں عارضی طور پر ایئرپلین موڈ استعمال کرنا بہتر رہتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر فون پہلے ہی گرم ہو تو اسے فوراً چارجنگ پر نہ لگائیں۔ پہلے ڈیوائس کو ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم حالت میں چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے فون نسبتاً زیادہ گرم ہو سکتا ہے۔

ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کے لیے رکھنا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ استعمال ہونے سے فون تیزی سے گرم ہوتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اسے ایئرکنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی بھی کم رکھی جائے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت بیٹری سیور موڈ آن کر دینا مفید ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ غیر ضروری بیک گراؤنڈ سرگرمیوں کو محدود کر کے فون کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح فیس بک، انسٹاگرام، ای میل اور دیگر غیر ضروری ایپس بند رکھنے سے بھی ڈیوائس پر دباؤ کم رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فون کو کبھی بھی براہِ راست دھوپ میں نہ رکھیں بلکہ بیگ یا کسی سایہ دار جگہ پر محفوظ کریں۔ ہلکے رنگ کے موبائل کور گرمی کم جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ان کا استعمال زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔

اگر فون غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے تو اسے فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں، کیونکہ اچانک درجہ حرارت میں تبدیلی سے فون کے اندر نمی پیدا ہو سکتی ہے، جو سرکٹ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فون کا کور اتار کر اسے بند کر دیں اور کسی ٹھنڈی جگہ یا پنکھے کی ہوا میں رکھ دیں تاکہ وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف اسمارٹ فون کو شدید گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Load Next Story