معرکہ حق و معرکہ سفارتکاری میں کامیابی کے بعد معرکہ معیشت جیتنا ہے، احسن اقبال
فوٹو: اے پی پی
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اب پاکستان کو معرکہ معیشت جیتنا ہے، جس کے لیے ملکی برآمدات کو ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگا۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے 26-2025 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں معیشت اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھتی رہی تاہم عالمی حالات، تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث شرح نمو 3.7 فیصد رہی جو اس کے باوجود گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین معاشی شرح نمو ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی بہتر کارکردگی نے معاشی استحکام کو مضبوط بنیاد فراہم کی، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کے شعبے کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی، لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد نمو ریکارڈ کی جبکہ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی، آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات، خوراک، مشروبات، تمباکو، معدنی مصنوعات اور گارمنٹس کے شعبوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال، خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور فریٹ چارجز بڑھنے کے باعث مہنگائی پر دباؤ آیا تاہم حکومت نے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاس اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کے باعث جولائی تا مئی ترسیلات زر 9.2 فیصد اضافے سے 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں، خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایف بی آر کی محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.7 فیصد زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ قربانی کے جانوروں کی تجارت میں بھی 3.5 فیصد اضافہ ہوا، مویشی منڈیوں، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، قصابوں اور لیدر انڈسٹری نے معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال27-2026 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، بنیادی ڈھانچے، سماجی شعبے، سائنس و ٹیکنالوجی، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر خصوصی علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور منظور شدہ منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مؤثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو 12.1 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا حکومت کی ترجیح ہے کیونکہ خواتین کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور مالی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، قابل تجدید توانائی، زراعت، ماہی گیری اور لاجسٹکس کا ابھرتا ہوا مرکز ہے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد-کراچی ایم-6 موٹر وے، چمن-کوئٹہ-کراچی شاہراہ اور سی پیک کے ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والے قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر قراقرم ہائی وے ٹو منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی رابطہ بلا تعطل جاری رہے، اسلام آباد میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوانٹم ویلی بھی قائم کی جائے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ملک بھر کی جامعات کا جامع جائزہ لینے، مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈگری پروگرام متعارف کرانے اور سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، اس آڈٹ کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔