پنجاب حکومت کا سانحہ کاہنہ کے بعد 1984 کے قانون میں ترامیم لانے کا فیصلہ
کاہنہ سانحے نے ٹیوشن سینٹرز کی نگرانی سے متعلق قانون سازی کی ضرورت اجاگر کر دی، سانحے کے بعد حکومت نے 1984 کے قانون میں ترامیم لانے کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں ٹیوشن سینٹرز پر حکومت باقاعدہ قانون سازی کرے گی کیونکہ صوبے میں ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن کا قانون میں خلا ہے، 41 سال پرانے قانون میں ٹیوشن سینٹرز کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔
سن 1984 کے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس میں ٹیوشن سینٹرز شامل نہیں لہٰذا ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
https://youtu.be/GSpAvVnheWk?si=CfHIJJkWgUskaBTk
ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن کے لیے 2025 میں نجی رکن کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔
ٹیوشن سینٹرز کی لازمی رجسٹریشن اور حفاظتی ضوابط کے بل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ نجی بل میں رجسٹریشن، معائنہ اور حفاظتی معیار تجویز کیے گئے تھے۔
حکومت ٹیوشن سینٹرز کو قانونی ریگولیٹری فریم ورک میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ ترامیم میں رجسٹریشن، بلڈنگ اور فائر سیفٹی کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز دی ہے۔