سوشل میڈیا کا جنون عروج پر، دنیا کے 5.66 ارب افراد روزانہ گھنٹوں آن لائن

رپورٹ کے مطابق 2005 میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے بھی کم تھی

ہر سال 30 جون کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز 2010 میں ڈیجیٹل میڈیا ویب سائٹ Mashable نے کیا تھا تاکہ عالمی رابطوں اور مواصلات میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا جا سکے۔

آج سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں اربوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔

ڈیٹا ری پورٹل کی ڈیجیٹل 2026 گلوبل اوور ویو رپورٹ کے مطابق دنیا میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد 5.66 ارب تک پہنچ چکی ہے، جو عالمی آبادی کے 68 فیصد سے زائد کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2005 میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے بھی کم تھی، جو 2015 میں بڑھ کر 2.27 ارب اور 2025 میں 5.66 ارب تک جا پہنچی۔ اس تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ کم قیمت اسمارٹ فونز کی دستیابی اور انٹرنیٹ تک وسیع رسائی قرار دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط سوشل میڈیا صارف ہفتے میں 18 گھنٹے 36 منٹ یعنی روزانہ تقریباً 2 گھنٹے 39 منٹ مختلف پلیٹ فارمز پر گزارتا ہے۔ یوں ایک سال کے دوران یہ وقت 40 دن سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

عالمی سطح پر سوشل میڈیا کا اوسط استعمال 68 فی صد ہے جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ شرح سب سے زیادہ 88.1 فی صد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد شمالی یورپ میں 79 فی صد، مغربی یورپ میں 77.7 فی صد اور شمالی امریکا میں 74 فی صد آبادی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔

اس کے برعکس وسطی افریقا میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی شرح محض 12.1 فی صد ہے جبکہ مشرقی افریقا میں 12.6 فی صد اور مغربی افریقا میں 19 فی صد افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔

اسٹیٹِسٹا اور کیپیوس کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ فعال صارفین کے اعتبار سے دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یہ ہیں:

  • فیس بک بدستور پہلے نمبر پر ہے، جس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 3.07 ارب ہے جبکہ ویڈیو مواد کے لیے  ریلز اب اس کا بنیادی فارمیٹ بن چکا ہے۔
  • انسٹاگرام اور واٹس ایپ (جنہیں فیس بک نے بالترتیب 2012 اور 2014 میں خریدا تھا) دونوں کے تقریباً 3 ارب ماہانہ فعال صارفین ہیں۔
  • یوٹیوب (جو گوگل کی ملکیت ہے) 2.58 ارب ماہانہ فعال صارفین کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
  • ٹک ٹاک (جسے 2017 میں عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا) کے صارفین کی تعداد مختلف اندازوں کے مطابق تقریباً 1.99 ارب ہے۔

تاہم، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ خدشات بھی جنم لے رہے ہیں خصوصاً بچوں اور کم عمر صارفین کے حوالے سے۔

یورپی پارلیمنٹ نے ایسی تجاویز کی حمایت کی ہے جن کے تحت سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے اور کم عمر صارفین کے لیے  انفائناٹ اسکرول اور آٹو پلے جیسے لت پیدا کرنے والے فیچرز پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اگرچہ ابھی پورے یورپی یونین میں اس حوالے سے کوئی مشترکہ قانون نافذ نہیں ہوا۔ تاہم، کئی رکن ممالک نے انفرادی طور پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اس سلسلے میں آسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر دنیا کا پہلا ملک بن کر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی نافذ کی۔ بعد ازاں انڈونیشیا نے مارچ میں یہ قانون نافذ کرتے ہوئے ایشیا کا پہلا ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

اسی ماہ برازیل نے بچوں اور نوجوانوں سے متعلق اپنے ڈیجیٹل قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے اکاؤنٹ کو قانونی سرپرست سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا اور لت پیدا کرنے والے فیچرز پر پابندی عائد کر دی۔

دوسری جانب ترکیہ نے اپریل میں قانون منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی گئی۔

ادھر برطانیہ کی حکومت نے جون میں اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی جائے گی جس کے 2027 کے موسمِ بہار سے نافذ ہونے کا امکان ہے۔

سوشل میڈیا آج دنیا کو جوڑنے کا طاقتور ذریعہ ضرور بن چکا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

Load Next Story