حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر جنوبی لبنان سے فوج واپس نہیں بلائیں گے، اسرائیل
یروشلم: اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اپنی فوج اس وقت تک واپس نہیں بلائے گا جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور اسرائیل کو لاحق سیکیورٹی خدشات ختم نہیں ہو جاتے۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، اس لیے وہ کسی ایسے مسلح گروہ کو اپنی سرحدوں کے قریب موجود رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا جسے وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا خاتمہ کیا جائے اور مستقبل میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے امریکا میں مذاکرات کے حالیہ دور میں مختلف سیکیورٹی اور سرحدی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ دونوں فریق بعض معاملات پر پیش رفت کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب لبنان اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی مطالبات پر باضابطہ ردعمل اس خبر کے وقت تک سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے باعث گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد فوجی جھڑپیں، فضائی حملے اور راکٹ حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں دونوں جانب جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا یہ مؤقف مستقبل کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ حزب اللہ کے اسلحے کا معاملہ لبنان کی داخلی سیاست اور علاقائی سلامتی کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔