10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کیخلاف نجی اسکولز کی درخواست پر ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹس جاری

عدالت نے ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر فریقین کو طلب کرلیا

فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نجی تعلیمی اداروں کی 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے خلاف درخواست پر ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹس جاری کردیا۔  

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کی جانب سے 2012 کے 10 فیصد فری تعلیم قانون کے خلاف درخواست پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، 10 فیصد ضرورت مند طلبہ کو تعلیم دینے کے قانون پر عمل درآمد کے لئے پیرا نے نجی اسکولز کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔ 

پرائیویٹ اسکولز کے وکیل نے کہا کہ جولائی سے پہلے پرائیویٹ اسکولز سے 10 فیصد طالب علموں کی فری تعلیم کی تفصیلات مانگی ہیں، حکومت ہمیں تو کوئی فنڈ یا  کوٹہ نہیں دے رہی فری تعلیم حکومت کا کام ہے۔

صدر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے، انہوں نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ایسے تو پرائیویٹ اسکولز بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ  کتنے بچے ایک کلاس میں ہوتے ہیں ؟ ایک کلاس میں 18 بچوں کو آپ پڑھا سکتے ہیں تو دو بچوں سے کیا مسئلہ ہے؟ آپ کے پاس جگہ نہیں ہے تو اسکولز بند کر دیں، آپ نے بچوں کو پڑھانا ہے اس طرح نا کریں آپ اب کہتے ہیں کہ فری تعلیم نا دی جائے۔

عدالت نے پرائیویٹ اسکولز کی ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر فریقین کو تین اگست کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

Load Next Story