پاکستان میں برآمدات بڑھانی ہیں تو کراچی پر فوکس کرنا ہوگا، وفاقی وزیر

سیلز ٹیکس ریفنڈ اور توانائی کے بلند نرخوں جیسے مسائل تاحال موجود ہیں، قیصر احمد شیخ کا کاٹی میں خطاب

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اگر برآمدات کو بڑھانا ہے تو کراچی پر فوکس کرنا ہوگا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے لیکن چینی کراچی آنے سے گھبراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے بجٹ میں ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس ختم کر دیا، سیلز ٹیکس ریفنڈ اور توانائی کے بلند نرخوں جیسے مسائل تاحال موجود ہیں۔ 

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ایف بی آر مسائل پر ہمارا موقف ایک ہی ہے، اسلام آباد میں فنانشل سینٹر بنایا ہے حکومت کی ساری توجہ برآمدات بڑھانے پر ہے، آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں کا سود سب سے بڑا خرچ ہے۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کے حوالے سے اچھا کام کر رہی ہے، سندھ حکومت کے تعاون سے اسٹیل ملز کی 6 ہزار ایکڑ زمین پر خصوصی اکنامک زون بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز اکنامک زون میں 10 سال کیلئے زیرو ڈیوٹی ہوگی، آئی ایم ایف اسپیشل اکنامک زون میں زیرو ریٹنگ کی اجازت نہیں دے رہا تھا، حکومت نے آئی ایم ایف کو انتہائی مشکل سے ایس ای زی کے لیے زیروریٹنگ پر قائل کیا ہے۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ معرکہ حق نے پاکستان کا عالمی تشخص بڑھایا ہے، پہلے امریکی صدر پاکستان کا فون نہیں اٹھایا کرتا تھا لیکن اب نتائج دیکھیں۔ بھارت نے کسر نہیں چھوڑی ہمیں دہشت گرد قرار دینے میں لیکن آج ہم دنیا میں امن کے داعی ہیں۔

کاٹی کے صدر اکرام راجپوت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ماحول میں کوئی سرمایہ کار کیوں سرمایہ کاری کریگا؟، ہماری صنعتوں کے لیے توانائی کا بحران ہے، متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کیلئے نئی صنعت قائم کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، وہ لوگ ہم پر مسلط ہو گئے ہیں جن کا صنعت و معیشت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

Load Next Story